بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تجارت کی نیت سے خریدی گئی زمین پر واجب گزشتہ سالوں کی زکات کی ادائیگی کا طریقہ


سوال

میں نے اگست 2006ء  میں 150 گز کا پلاٹ گلشن مہران میں تقریبا  6,31,750 روپے میں خریدا تھا، اور اس میں تجارت کی نیت تھی ،اس وقت سے زکات  ادا نہیں کی، برائے کرم راہ نمائی فرمائیں کہ اب مجھے اس کی کتنی زکات ادا کرنی ہے؟ اور اب اس کی قیمت بڑھ چکی ہے اور میں زکات ادا کرنا چاہتا ہوں ۔

اسی طرح میں نے ستمبر 2006 میں ایک اور پلاٹ تجارت کی نیت سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اسکیم  33 میں خریدا تھا، اس کا رقبہ 200 مربع کا ہے، اور قیمت 3,44,000 اس کی بھی زکات ادا نہیں کی، اور میں زکات ادا کرنا چاہتا ہوں ،اب اس کی قیمت کم ہو چکی ہے، برائے کرم  راہ نمائی فرمائیں کہ  مجھ پر کتنی زکات واجب الادا ءہے، گزشتہ سالوں کی زکات کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر  کوئی زمین تجارت کی نیت سے خریدی جائے تو اس کی قیمتِ فروخت پر ہر سال زکات فرض ہوگی،  جب زکات کا سال پورا ہو، اس وقت مارکیٹ میں جو فروخت کی قیمت ہوگی، اس کا اعتبار ہوگا، اور اس سے ڈھائی فیصد زکات نکالنا لازم ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور دونوں  پلاٹ اگر 2006ء   میں تجارت کی نیت سے خریدے گئے تھے،اور ان   کی زکات ادا نہیں کی گئی ہے، اور اب بھی اس زمین کو بیچنے کی ہی نیت ہے، تو مارکیٹ میں فی الوقت مذکورہ زمین کی قیمتِ فروخت کے اعتبار سے  گزشتہ  سالوں  کی زکات ادا کی جائے گی، جس کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہےکہ زکات ادا کرتے وقت  زمین کی موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا، اور  گزشتہ  ہر سال کے بدلے اس کا  ڈھائی فیصد ادا کیا جائے گا، اور اس مقدار کو  اگلے سال کی زکات نکالتے وقت منہا کیا جائے گا، اسی طرح آگے بھی کیا  جائے گا، مثلاً پلاٹ کی مالیت 1000000 روپے ہے، اور ایک سال  کے بدلے 25000 روپے  زکات دی تو اگلے سال  کی زکات نکالتے وقت اس کو منہا کرکے بقیہ 975000روپےکے حساب سے ڈھائی فیصد زکات   ادا کی جائے گی ،اگر  مذکورہ چند سالوں   کی زکات نکالنے کے بعد پلاٹ کی قیمت  نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) سے کم رہ جائے تو پھر  اس کی زکات ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابًا من الورق والذهب، كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة، كذا في التبيين. و تعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة، كذا في المضمرات."

(كتاب الزكوة، الباب الثالث فى زكوة الذهب، الفصل فى العروض، ج:1، ص:179، ط:مكتبه رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101821

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں