
کسی آدمی نے تجارت کی غرض سے پلاٹ خریدا ہو ،اور پلاٹ کی قسط چل رہی ہو، ابھی تک مکمل قبضہ نہ ملا ہو، صرف پلاٹ کی رسید ملی ہو ،تو اس پلاٹ کی زکاة کون اداکریگا ؟
واضح رہے کہ خرید وفروخت کا ایجاب و قبول ہوجانے کے ساتھ ہی فروخت کردہ زمین پر خریدار کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے،اور ٖثمن (قیمت )پر فروخت کنندہ کا استحقاق ثابت ہوجاتاہے،لہذا صورت مسؤلہ میں تجارت کی نیت سے جو پلاٹ قسطوں میں خریدا گیا ہے، اگر پلاٹ نمبر اور بلاک نمبر دے دیا ہے تو اس کی زکوۃ کی ادائیگی خریدار پر لازم ہوگی،جس کے حساب کا طریقہ یہ ہے کہ پلاٹ کی موجودہ قیمت سے وہ اقساط منہا کردی جائیں جو زکوۃ کا سال مکمل ہونے تک خریدار کے ذمہ واجب الاداء ہوں،بقیہ ویلیو کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد زکوۃ کے طور پر ادا کردیا جائے اور اگر پلاٹ نمبر اور بلاک نمبر الاٹ نہیں ہوا تو جمع شدہ رقم پر ہی زکوۃ واجب ہو گی، پلاٹ کی مالیت پر نہیں۔
فتاوی ھندیہ میں ہے:
"ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج وأما المبيع قبل القبض فقيل لا يكون نصابا والصحيح أنه يكون نصابا كذا في محيط السرخسي."
(كتاب الزكوة،الباب الاول،ج: 1،ص: 190،ط: قديمى)
البحر الرائق میں ہے:
"وقدمنا أن المبيع قبل القبض لا تجب زكاته على المشتري، وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض، قيل: لا يكون نصابا؛ لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد، والصحيح أنه يكون نصابا؛ لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه، وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعا اهـ فعلى هذا قولهم: لا تجب الزكاة معناه قبل قبضه،وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي."
(كتاب الزكوة،ج: 2،ص: 365،ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع."
(كتاب الزكوة،ج: 2،ص: 261،ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100269
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن