
کمپنی کی طرف سے ایک ٹھیکیدار کے لئے تنخواہ مقرر ہے،اس کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو کمپنی میں اپنی ماتحتی میں کام پر لگاتاہے،وہ جس مزدور کواپنی ماتحتی میں کام پر لگاتاہے ،اس سے ہردن کی دیہاڑی سے 10 روپے بطور کمیشن لیتاہے،جبکہ کمپنی کو اس بات کا علم نہیں ہے اور نہ ہی مزدور اس بات پر راضی ہے۔تو کیا ٹھیکدار کا مزدور کی دھاڑی سے بغیر اس کی رضامندی کے 10 روپے کاٹنا جائز ہے؟
نوٹ:جس وقت وہ مزدور کو کام پر لگاتا ہے اس وقت وہ مزدور کو یہ کہتاہے کہ دن کی دھاڑی سے دس روپے میں بطور کمیشن لوں گا۔
صورت مسئولہ میں جب کمپنی نے مذکورہ شخص کوکمپنی میں صرف مزدور وں کو کام پر لگانےکے لئے مقرر کیا ہےاور کمپنی خود اس ٹھیکیدار کو اس کام کی تنخواہ دے رہی ہے تو ٹھیکیدار کا مزدوروں سےان کی دھاڑی سے کمیشن لینا جائز نہیں ہے، اگر لیا ہے تو واپس کر دینا ضروری ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ولايجوز أخذ المال ليفعل الواجب."
(كتاب القضاء، مطلب في الكلام على الرشوة والهدية، ج: 5، صفحہ: 362، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101749
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن