بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طہارت اور نماز سے متعلق مختلف سوالات


سوال

1-صاحب ترتیب شخص کی نماز میں واجب وغیرہ چھوٹ جانے کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ  ہونے کی صورت میں اگلی نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟آیا واجب الاعادہ نماز اور مکمل قضا ہونے والی نماز میں کوئی فرق ہے یا نہیں ؟

2-نماز میں عورت کے لیے جہر کرنے کی صورت میں کیا حکم ہے دن اور رات کی نمازوں فرائض سنن نوافل اور تراویح میں اس صورت میں کوئی فرق ہے یا نہیں نیز سر واجب ہونے کی صورت میں اگر لاعلم کی نمازوں میں جہر کر لیا ،اور ان کی تعداد نوعیت وغیرہ کا بھی کچھ اندازہ نہ ہو تو اس صورت میں کیا تدبیر اختیار کی جائے ؟

3-سر اور جہر میں کتنی بلند اواز معیار بنتی ہے ؟

4-دوران سفر اگر نماز کا وقت ہو جائے، اور ساتھیوں کے تعاون نہ ہونے کی وجہ سے یا راستہ پر خطر ہونے کی وجہ سے اترنے کی کوئی صورت نہ ہو ،اور  طہارت ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں نماز کی ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟

5-موجودہ حالات میں جبکہ شہری زندگی میں بالوں، اور ناخن وغیرہ کو دفنانا یا  دریا وغیرہ میں بہانا اگر  چہ ناممکن تو نہیں لیکن بے انتہا مشکل ضرور ہے، خواتین کے لیے خصوصا ٹوٹے ہوئے بالوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہے، لہذا موجودہ صورتحال میں ناخن اور بالوں کو محفوظ کرنے میں کس قدر اہتمام مطلوب ہے ؟

6- ترمذی شریف  میں موجودہ حدیث (کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا لم یصل من اللیل منعه من ذلك النوم أو غلبته عیناہ صلی من النھار ثنتي عشرۃ رکعة،)کی رو سے اگر کسی  تہجد کے پابند شخص کی نماز کی تہجد قضاء ہو جائے تو کیا دن میں بارہ رکعات پڑھنے سے اس کی کوتاہی کا مداواہو جائے گا؟

جواب

1-جس شخص کی نماز کسی واجب کے رہ جانے کی وجہ سے یا مکروہ تحریمی پیش آنے کی وجہ سے واجب الاعادہ ہو تو اگر اس نے نماز کا وقت ختم ہونے تک اعادہ  نہ کیا ہو تو وقت ختم ہونے کے ساتھ ہی اعادہ  ذمہ سے ساقط ہو جاتا ہے ،اور نماز  ناقص ادا شمار ہوتی ہے، اعادہ واجب نہیں رہتا، البتہ ایسی نماز لوٹانا مستحب ہوتا ہے، لہذا اگر ایسا کسی صاحب ترتیب شخص کے ساتھ ہوا ہو، تو وہ  وقتی فرض ادا کر سکتا ہے،البتہ جس صاحب ترتیب شخص کے ذمے چھ سے کم قضاء نمازیں ہوں اس کے لیے وقتی فرض سے قبل قضاء نمازیں پڑھنا ضروری ہوگا، یہی فرق ہے قضاء  نماز اور واجب الإعادہ نماز میں۔

2۔3۔  فقہاءِ کرام نے سر  اور   جہر  کی جو تعریفات کی ہیں ان کی رو سے  سری قرأت کا اطلاق اتنی آواز پر ہوتا ہے  جس کو  پڑھنے والا خود سن سکے  یا  اس کے بالکل قریب ایک،  دو آدمی سن سکیں، جب کہ جہری قرأت کا اطلاق اس قرأت پر ہوتا ہے جو مذکورہ آواز سے زیادہ ہو، یعنی  اتنی آواز  جس کو وہ لوگ بھی سن سکیں جو  پڑھنے  والے  کے  بالکل قریب یا متصل  نہ ہوں،  نیز عورت کے لیے تمام نماز وں (دن،رات فرض،نفل، تراویح) اس میں آہستہ(سرا) قرآت کرنے کاحکم ہے ،البتہ   اگرکبھی اس کے خلاف کرلیا ہوتووہ نماز ہوجائے گی ،اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

4۔ اگر سفر کے دوران ریل میں یا جہاز   قیام ہی ممکن نہ ہو، یا قیام تو ممکن ہو لیکن قبلہ رخ نہ ہوسکے، یا سجدہ نہ کیا جاسکتاہو،یا بس میں ہونے کی صورت میں باوجود کہنے کے ڈرائیور گاڑی نہ روکے   اور طہارت حاصل کرنا،پانی یا مٹی کے ذریعے ممکن نہ ہواور نماز کا وقت نکل رہا ہو تو فی الحال  جس بھی ہیئت میں ممکن ہو’’تشبہ بالمصلین‘‘ (نمازیوں کی مشابہت )اختیار کرلی جائے، پھر جب مقام پر پہنج جائے اور  سواری  سے اتر جائے تو فرض اور وتر کی ضرور قضا کرے۔

5.کٹے ہوئے بال اور ناخن جزِ انسانی ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں،اس لیے بہتر ہے کہ انہیں دفن کردیا جائے،یا کسی پاک جگہ میں ڈال دیا جائے،کوڑا دان میں ڈالنے  میں ان کی بے احترامی ہے،تاہم یہ امر استحبابی ہے،لازم اور ضروری نہیں ہے۔

6۔ترمذی شریف میں مذکورہ  روایت کے مضمون کی دیگر احادیث مسلم شریف میں بھی موجود ہیں،مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے:عَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، وَصَلَاةِ الظُّهْرِ ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ،  نیز  موطا  امام مالک میں مزید اضافہ ہے:عن عائشة أن رسول الله ﷺ قال: «ما من أمرئ تكون له صلاة بليل يغليه عليها نوم إلا كتب الله له أجر صلاته، وكان نومه عليه صدقة.

اس حدیث کی تشریح میں شارحین  حدیث نے    دو توجیہات کی ہیں:
اس کو اس کی نیت کا ثواب دیا جائے گا،اور یہ معاملہ  اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کو کبھی کبھار  اس طرح کا عذر پیش آجائے۔
یا اس کی اس تمنی کرنے پر "کہ کا ش میں  یہ نما زپڑھ لیتا"،یا اس کے افسوس کرنے پر کہ" مجھ سے یہ نماز کیوں چھوٹ گئی"۔

علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا  کہ یہ ثواب تب ملے گا جب  اس کا معمول کسی دنیاوی مشغولیت کی وجہ سے نہ چھوٹا ہو،بلکہ کسی ایسی وجہ سے ہو  جو اس کے بس میں نہیں، جیسے نیند،نسیان،یا اس جیسا کوئی اور عذر ہو۔
مفتی سعید احمد پالن  پوری رحمہ اللہ نے  اس حدیث کے ذیل میں  اپنی کتاب تحفۃ الالمعی میں لکھا ہےکہ: اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدمی  جب اپنا کوئی ورد مقرر کرلے تواگرچہ وہ عمل شرعا لازم نہیں ہوتا مگر اسے پابندی کرنا چاہیے،کیونکہ  پابندی  میں بڑی برکت ہے۔

فتح الملھم میں ہے:

"قال الزرقاني: أجر صلاته، أي التي اعتادها وغليه النوم أحياناً، مكافأة له على نيته، قال الباجي: وذلك يحتمل أن له أجرها غير مضاعف، ولو عملها لضوعف له أجرها، إذ لا خلاف أن المصلي أكمل حالاً، ويحتمل أن يريد له أجر نيته، وأن له أجر من تمنى أن يصلي تلك الصلاة، أو أجر تأسفه على ما فاته منها، واستظهر غيره الأول، أي أجر نيته لا سيما مع قوله : وكان نومه عليه صدقة.

قال الباحي : يعني أنه لا يحتسب به، ويكتب له أجر المصلين. وقال ابن عبد البر : فيه أن المرء يجازي على ما نوى من الخير، وإن لم يعمله، كما لو عمله، فضلاً من الله تعالى، إذا لم يحبسه عنه شغل دنيا، وكان المانع من الله، وأن النية يعطى عليها كالذي يعطى على العمل إذا حيل بينه وبين ذلك العمل بنوم أو نسيان أو غير ذلك من الموانع."

(کتاب الصلاۃ،باب جامع صلاۃ اللیل ومن نام عنه او مرض، ج:2، ص: 150، ط: دار القلم)

حاشیہ الطحطاوی میں ہے:

"والمختار أن المعادة؛ لترك واجب نفل جابر، والفرض سقط بالأولى؛ لأن الفرض لا يتكرر، كما في الدر وغيره."

(کتاب الصلاۃ،فصل فی بیان واجب الصلاۃ،ص: 247،ط:دار الكتب العلمية بيروت)

وفیہ ایضا:

"وإعادتها بتركه عمداً" أي ما دام الوقت باقياً وكذا في السهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها حتى  خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم، ويكون فاسقاً آثماً، وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم، والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى؛ لأن الفرض لايتكرر، كما في الدر وغيره. ويندب إعادتها لترك السنة".

"كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت، وأما بعده فندب."

(کتاب الصلاۃ،فصل فی بیان الواجب،  ص: 247،ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولا تجهر في الجهرية، بل لو قيل بالفساد بجهرها لأمكن بناء على أن صوتها عورة."

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها،ج:1،ص:504، ط: سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

"صرح في النوازل بأن نغمة المرأة عورة، وبنى عليه أن تعلمها القرآن من المرأة أحب إلي من الأعمى، قال: لأن نغمتها عورة، ولهذا قال - عليه الصلاة والسلام - «التسبيح للرجال والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل انتهى كلامه.

وعلى هذا لو قيل إذا ‌جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولذا منعها - عليه الصلاة والسلام - من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام لسهوه إلى التصفيق."

(فتح القدير للكمال ابن الهمام وتكملته، كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة التي تتقدمها،ج:1،ص: 260، ط:دار الفكر)

البحر الرائق میں ہے:

"ولا يستحب في حقها الجهر بالقراءة في الصلاة الجهرية بل قدمناه في شروط الصلاة أنه لو قيل بالفساد إذا ‌جهرت لأمكن على القول بأن صوتها عورة."

(كتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،  آداب الصلاة، ج: 1، ص: 339، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان.

يدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم كذا في الفتاوى العتابية".

(کتاب الکراهیة، باب الختان، ج: 5، ص: 358، ط: دار الفکر)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

"وإذا ‌قص ‌أظفاره أو حلق شعره ينبغي أن يدفنه؛ قال تعالى {ألم نجعل الأرض كفاتا} {أحياء وأمواتا} وإن ألقاه فلا بأس به، ويكره إلقاؤه في الكنيف والمغتسل، قالوا: لأنه يورث المرض."

(کتاب الکرا هية،ج:4،ص:167،ط:دار الکتب العلمیة)

البحر الرائق میں ہے:

’’و في الخلاصة و فتاوى قاضي خان و غيرهما: الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء و الصلاة يتيمم و يصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج، و كذا لو قال لعبده: إن توضأت حبستك أو قتلتك، فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد كالمحبوس؛ لأن طهارة التيمم لم تظهر في منع وجوب الإعادة، و في التجنيس: رجل أراد أن يتوضأ فمنعه إنسان عن أن يتوضأ بوعيد، قيل: ينبغي أن يتيمم و يصلي ثم يعيد الصلاة بعد ما زال عنه؛ لأن هذا عذر جاء من قبل العباد فلا يسقط فرض الوضوء عنه اهـ. فعلم منه أن العذر إن كان من قبل الله تعالى لا تجب الإعادة و إن كان من قبل العبد وجبت الإعادة.‘‘

(کتاب الطهارة، باب التیمم، ج:1، ص:149، ط:دار الكتاب الإسلامي)

تحفۃ الالمعی میں ہے:

"اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدمی  جب اپنا کوئی ورد مقرر کرلے تواگرچہ وہ عمل شرعا لازم نہیں ہوتا مگر اسے پابندی کرنا چاہیے،کیونکہ  پابندی  میں بڑی برکت ہے۔"

(ابواب الصلاۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم،باب منہ، ج:2، ص:239، ط:مکتبۃ زمزم)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100523

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں