بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

تھیلیسیمیا مرض کی وجہ سے حمل ساقط کرنا


سوال

میری ہمشیرہ پچھلے  ساڑھے تین ماہ سے حمل سے تھی، لیکن جنین کا ٹیسٹ کرانے پر معلوم ہوا کہ وہ ابنارمل ہے، اس کو تھیلسیمیا نامی مرض ہے، بس اس بنیاد پر اس کے سسرال والوں نے حمل کو ساقط کروادیا، جب کہ حمل کو سارھے تین ماہ  ہوئے تھے اور بچہ میں مردانہ علامت بھی واضح ہوگئی تھی، معمولی ہاتھ بھی بن چکا تھا تو کیا ان کا عمل جائز تھا یا حرام ؟

جواب

 حمل سے عورت کی جان کو خطرہ  ہو یا کسی شدید مضرت کا اندیشہ   ہو ، یا  حمل سے عورت کا دودھ بند ہوجائے  یا خراب ہوجائے جس  سےپہلے بچے کو نقصان ہو   تو ایسے اعذار کی بنا پر  حمل میں روح پڑجانے سے پہلے   پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    حمل  ساقط کرنے کی گنجائش ہے، اور چار ماہ کے بعد کسی صورت میں اسقاطِ حمل جائزنہیں ہے، اور  عذر نہ ہو تو پھر  حمل کو ساقط کرنا گناہ ہے،

نیز  الٹرا ساؤنڈ میں بچے کی کسی بیماری کا علم یقینی نہیں ہوتا ، بلکہ گمان کے درجے میں ہوتا ہے، اور  اگر واقعی بیماری ہوبھی تو اللہ پاک بقیہ مدت میں بچے کی  تکمیل اور اسے صحت دینے پر قدرت رکھتے ہیں۔  اوربالفرض بچہ صحیح سالم نہ ہو  اور چار ماہ یا اس سے زیادہ حمل کی مدت ہوجائے تو پھر اس کااسقاط جائز نہیں، کیوں کہ بیمار انسان کو مارناجائز نہیں۔

لہذا اگر  ڈاکٹروں نے  آپ کی ہمشیرہ کو اس کے پیٹ میں موجود بچے میں تھیلیسمیا مرض کی تشخیص کی  تو ایسی صورت میں  اللہ پاک سے صحت یابی کی دعاکرنی چاہیے تھی  اوراللہ پاک سے  اچھی امید رکھنی چاہیے تھی، اور  اس وجہ سے ساڑھے تین ماہ کا حمل ساقط نہیں کرناچاہیے تھا،لہذا اپنے اس فعل پرتوبہ و استغفار کریں ، اس کے علاوہ اس فعل کا شرعاً کوئی کفارہ نہیں۔

        فتاوی شامی میں ہے:

"وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.

(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم! يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط؛ لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة، كذا في الفتح. وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه؛ لأنه أصل الصيد، فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لاتأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح".

 (3 / 176، مطلب فی اسقاط الحمل، باب نکاح الرقیق، ط؛ سعید)

الموسوعة الفقهیة الکویتیة (۳۰/ ۲۸۵):

"وذهب الحنفیة إلی إباحة إسقاط العلقة حیث أنهم یقولون بإباحة إسقاط الحمل ما لم یتخلق منه شيء ولم یتم التخلق إلا بعد مائة وعشرین یوماً، قال ابن عابدین: وإطلاقهم یفید عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذکورة علی إذن الزوج، وکان الفقیه علي بن موسی الحنفي یقول: إنه یکره فإن الماء بعد ما وقع في الرحم مآله الحیاة، فیکون له حکم الحیاة کما في بیضة صید الحرم، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة العذر أو أنها لا تأثم إثم القتل".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201585

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں