
ایک بیان کرنے والے نے یہ بات کہی کہ:"اگر آپ کسی شخص کو کوئی کام ایک بار کہیں تو ٹھیک ہے، دوسری بار کہیں تو بھی درست ہے کہ شاید وہ بھول گیا ہو، لیکن اگر تیسری بار کہا جائے تو یہ شرک بن جاتا ہے، اور اکثر لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا۔"
اس سلسلے میں معلوم کرنا یہ ہے کہ کیا یہ بات شرعاً درست ہے؟ کیونکہ آج کے معاشرے میں اگر لوگوں کے معاملات اور رویّوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک بڑی تعداد ایسی نظر آتی ہے جو غیر ذمہ داری، غفلت، لاپروائی اور بات کو سنجیدگی سے نہ لینے کی عادی ہے، اور اکثر لوگ کسی کام پر اسی وقت عمل کرتے ہیں جب انہیں بار بار یاد دہانی کرائی جائے۔
ایسے حالات میں کیا ہر معاملے میں صرف دو مرتبہ کہنا ہی جائز ہے؟ اور کیا تیسری مرتبہ کسی کو کسی کام کی یاد دہانی کروانا واقعی شرک کے زمرے میں آتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں کسی شخص کو ایک سے زائد مرتبہ بھی کسی کام کا کہا جاسکتا ہے ، شرعاًایسی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی کہ کسی کو صرف ایک یا دو مرتبہ ہی بات کہی جاسکتی ہے اور تیسری مرتبہ کہنا شرک بن جائے۔
لہذامذکورہ شخص کا یہ کہنا کہ :"اگر تیسری بار کہا جائے تو یہ شرک بن جاتا ہے، اور اکثر لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا"، غلط ہے ، شرک کا حکم لگانا بھی سنگین معاملہ ہے ، اس طرح کے امور پر جلد بازی میں شرک کا حکم لگانا بذات خود دین سے دوری اور نادانی کی بات ہے۔جناب رسول اللہ ﷺسے متعلق احادیث کی کتب میں موجود ہے کہ اہم امور کو تین بار دہراتے تھے ۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن انس قال كان النبي ﷺ إذا تكلم بكلمة أعادها ثلاثًا حتى تُفهم عنه"
(كتاب العلم، الفصل الاول، ج: 1، ص: 72، رقم الحديث: 208، ط: المكتب الاسلامي،بيروت)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101674
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن