
میرے والد کا 18 سال پہلے انتقال ہو گیاہے، ان کے ورثا میں ایک بیوہ، تین بیٹے، تین بیٹیاں تھیں، والد کے ترکے میں گھر تھا، گھر کی قیمت تقسیم میراث کے وقت 60 لاکھ تھی، ہم تین بھائیوں نے اپنی بہنوں سے کہا کہ 60 لاکھ کے حساب سے ہم تم کو حصہ دے دیں گے، اور گھر ہم رکھ لیں گے ،اس پر انہوں نے رضامندی کا اظہار کیا ،اورراضی ہو گئیں، پھر بھائیوں میں یہ طے ہوا کہ ہر ایک بھائی ایک ایک بہن کو اس کا حصہ دے گا ،دو بھائیوں نے دو بہنوں کو حصہ دے دیا ،اور ایک بھائی نے ایک بہن کو اس کے حصے میں سے ایک لاکھ روپے ادا کردیے تھے،باقی ابھی تک ادا نہیں کیا تھا کہ اس بھائی کا انتقال ہو گیا، اب بہن اپنے بقیہ حصے کا مطالبہ کر رہی ہے، اب ہم دو بھائیوں نے یہ طے کیا کہ مرحوم پر اس بہن کا جو حصہ رہتا ہے وہ ہم دو بھائی مل کر اس کو ادا کر دیں ،لیکن بہن کہتی ہے کہ جو گھر کی قیمت آج ہے اس کے حساب سے میں اپنے بقیہ حصہ لوں گی ،اب سوال یہ ہے کہ بہن کا حصہ آج کی قیمت کے حساب سے دیا جائے گا یا تقسیم کے وقت کی قیمت کے حساب سےادا کیا جائے گا۔
صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کا بھائی اپنے مرحوم بھائی کے ذمہ بہن کے حصے کی جو رقم ادا کرنا چاہتے ہیں،اس کا حساب تقسیم کے وقت بھائی کے ذمہ جو رقم تھی وہی رقم ادا کرنا لازم ہوگی،اس لیے سائل کی بہن کا آج کی قیمت کے حساب سے رقم کا مطالبہ درست نہیں ۔
فتاوی رحیمیہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
"جس وقت ترکہ تقسیم کیا جائے اس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا،یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے، اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے"۔
(کتاب المیراث ،283/10،ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100515
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن