
شادی کے آٹھ سال بعد میری بیوی کا انتقال ہوا ہے، اس عرصے میں اس کے جہیز کا کچھ سامان استعمال ہوا ہے،اور کچھ موجود ہے ،اور میں نے اس کا مہر بھی ادا نہیں کیا ہے، اس رمضان میں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ روزے نہیں رکھ سکی تھی ، نیز میری بیوی نے میرے ساتھ آٹھ سال گزارے ہیں، ان آٹھ سالوں میں ماہواری کی بنا پر جو روزے رہ گئے تھے، ان کی بھی قضا رہ گئی ہے، ان کا حساب کیسے لگایا جائے؟ ایک فدیے کی کتنی رقم بنے گی اور کل رقم کتنی ادا کرنی ہوگی،تاہم میری بیوی نے اس بارے میں کوئی وصیت نہیں کی تھی۔
ورثاء میں شوہر،والدین،ایک تین سالہ بیٹاہے۔
مہر دینا ہوگا یا نہیں؟ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟روزوں کا فدیہ ادا کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی اہلیہ مرحومہ نے اپنے روزوں کے فدیہ کی ادائیگی کی وصیت نہیں کی تھی تو ان کے قضاء روزوں کے فدیہ کی ادائیگی ورثاء کے ذمہ لازم نہیں ،تاہم اگر شوہر یا کوئی اور وارث مرحومہ کی طرف سے اپنی خوشی سے فدیہ ادا کرنا چاہے تو ادا کرسکتا ہے،اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے ۔نیز اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اوروہ ترکہ کی تقسیم سے قبل باہمی رضامندی سے ترکہ میں سے فدیہ اداکرکے بقیہ ترکہ تقسیم کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہوگا۔
مرحومہ کے روزوں کے فدیہ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے گزشتہ سالوں کے قضا روزوں کو غالب گمان (اندازے )سے متعین کرلے،ان روزوں کے ساتھ اس رمضان کے روزے شامل کرکے ایک روزے کے بدلے فدیہ کے طور پر ایک صدقۃ الفطر(پونے دو کلو گندم) یا اس کی قیمت کے بقدر صدقہ ادا کردے،امید ہےاللہ تعالی مرحومہ کی طرف سے قبول فرمالیں گے۔
سائل نے چوں کہ اپنی بیوی کا مہر اب تک ادا نہیں کیا ہے؛لہذا سائل کے ذمہ واجب ہے کہ وہ مرحومہ کا مقررہ مہر ادا کرے، نیزمہر مرحومہ کے ترکے میں شامل ہو کر تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا ۔
مرحومہ کے ترکہ کی شرعی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کاسب سے پہلے مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنیاگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہکل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے 12حصے کرکے 3 حصے شوہر کو ، 2،2 حصے مرحومہ کے والد اور والدہ کو،اور 5 حصے مرحومہ کے بیٹے کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
مرحومہ بیوی:12
| شوہر | والد | والدہ | بیٹا |
| 3 | 2 | 2 | 5 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25 فیصد،مرحومہ کے والدین میں سے ہر ایک کو 16.66 فیصد،اور بیٹے کو41.66 فیصد ملے گا۔
المبسوط للسرخسی میں ہے :
"و الدليل عليه أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، و لاتحبس المبدل إلا ببدل واجب و إن بعد الدخول بها يجب. و لا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن."
(كتاب النكاح، باب المهور،ج:5، ص: 63، ط: بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج: 1، صفحه: 304، ط: رشيدية)
حاشية الطحطاوي میں ہے:
"خاتمة: من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء."
(باب قضاء الفوائت،ص:447،ط:دارالکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101077
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن