بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تیری بیٹی کو میں طلاق دیتا ہوں چھ مرتبہ کہنے کا حکم


سوال

میری ساس ہمارے گھر آئیں، وہاں لڑائی جھگڑا ہوا، اور انہوں نے مجھے کچھ تھپڑ بھی مارے۔ اس کے بعد میں گھر سے باہر چلا گیا۔ پھر میری ساس کے دیور ہمارے گھر آئے، میں ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کر رہا تھا۔ اسی دوران میری بہنوں اور بہنوئی کو بھی معلوم ہوا کہ گھر میں جھگڑا ہوا ہے۔ پھر میرے بہنوئی اور میری ساس کے دیور کے درمیان بھی لڑائی ہوگئی۔

اس دوران میرے منہ سے چھ مرتبہ طلاق کے الفاظ نکلے۔ طلاق کے الفاظ یہ تھا کہ  میں نے اپنی ساس کو  کہا: ’’تیری بیٹی کو میں طلاق دیتا ہوں۔‘‘

اب اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ کیا ہمارا نکاح ختم ہوگیا ہے یا برقرار ہے؟

میری بیوی کہہ رہی ہے کہ اس نے یہ الفاظ نہیں سنے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی ساس سے اپنی بیوی کے بارے میں چھ مرتبہ یہ کہا کہ: ’’تیری بیٹی کو میں طلاق دیتا ہوں‘‘، تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں  ۔  اوربیوی سائل پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے۔نکاح ختم گیا ہے۔ شوہر (سائل) کے لیے متعلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے۔   

پس اب سائل کی بیوی عدتِ طلاق  (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو، اور اگر حمل تھا تو بچے کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر دوسری جگہ  نکاح کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ طلاق  واقع ہونے کے لیے بیوی کا طلاق کے الفاظ سننا ضروری نہیں۔

فتح القدير میں ہے: 

"ولا يقع ‌بأطلقك إلا إذا غلب في الحال".

(باب إيقاع الطلاق، ج:4، ص:7، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)

فتاوی شامی  میں ہے:

"لأن ‌المضارع ‌حقيقة ‌في ‌الحال مجاز في الاستقبال كما هو أحد المذاهب، وقيل بالقلب، وقيل مشترك بينهما".

(‌‌باب تفويض الطلاق، ج:3، ص:319، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

وفيه أيضًا:

"(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ. ....ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ."

 (كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:248، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

وفيه أيضًا: 

"(قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح"

 (كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:250، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے: 

"قل لها إنها طالق فتطلق للحال ولا يتوقف على وصول الخبر إليها."

(كتاب الطلاق، باب ألفاظ الطلاق، ج: 3، ص: 272، ط: دار الكتاب الإسلامي)

 فقط واللہاعلم


فتویٰ نمبر : 144711101932

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں