
ایک کمپنی کا پانچ افراد سے معاہدہ ہے کہ وہ ان سے ہی مال خریدے گی ،اور اس کے لیے وہ کمپنی ان پانچ افراد ہی کو ٹینڈر دیتی ہے،اور جس کا ریٹ ان پانچوں میں سے کم ہوتا ہے اس سے وہ مال خریدتی ہے، اور ان پانچوں میں سے اس کو وہ ٹینڈر مل جاتا ہے،کمپنی نے مثلا پانچ چیزیں خریدنی ہیں، اور یہ پانچ چیزیں پانچوں افراد کے پاس سے مل سکتی ہیں، اور ہر چیز کا ٹینڈر علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے،اگر یہ پانچ افراد آپس میں یہ طے کر لیں کہ ایک ایک ٹینڈر ہر ایک کو مل جائے اس طور پر کہ جس چیز کا ٹینڈر ان پانچ میں سے کسی ایک کو دلوانا ہے باقی چار اس کے ریٹ بڑھا کر ٹینڈر بھریں، اس طرح سب کو ٹینڈر اپنی اپنی مرضی کا مل جائے تاکہ وہ اس پر اپنی مرضی کا منافع کمپنی سے اس پر وصول کریں،اور یہ آپس میں طے کرنا اس لیے بھی ہے کہ کمپنی ہمیں ٹینڈر فائنل ہوجانے کے بعد مال پہنچانے کے لیے صرف پندرہ دن کا وقت دیتی ہے ،جب کہ چائنا سے مال منگواکر دینے میں کم از کم 45 دن لگتے ہیں، نیز جو معاہدہ ہے اس کے اندر یہ بات مذکور نہیں ہے کہ ہم پانچوں آپس میں کسی کو ٹینڈر نہیں بتائیں گے،تاہم جو کمپنی ٹینڈر دیتی ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کو مطلوبہ چیز کم قیمت میں مل جائے اور ہمارے آپس کے معاہدہ کرنے سے اس کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، کیا اس طرح کرنا مناسب ہے ؟ اگر کمپنی کو یہ معلوم ہوگیا کہ ہم نے آپس میں یہ طے کرلیا کہ ہر ایک ذیادہ کا ٹینڈر بھرے گا تو وہ معاہدہ ختم نہیں کرے گی ، لیکن اسے نامناسب لگے گا۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ کمپنی انہی پانچ افراد کو ٹینڈر دے گی اور ٹینڈر دینے سے مقصود کمپنی کا یہ ہوتا ہے کہ اس کو سستے داموں میں مطلوبہ چیز مل جائے،جب کہ مذکورہ پانچ افراد کاباہم اس طرح معاہدہ کرنے سے کمپنی کا مقصد فوت ہوتا ہے ، لہذا یہ بات معاہدے میں مذکور نہ ہونے کے باوجود مذکورہ پانچ افراد کا باہم اس طرح کا معاہدہ کرنا دیانت کے خلاف ہے اور دھوکہ دہی سے مشابہ ہے،تاہم جس کا ٹینڈر دیا جارہا ہو اگر وہ فی نفسہ جائز ہو اور اس میں دیگر کوئی شرعی قباحت نہ پائی جاتی ہوتو اس طرح کا معاہدہ کرنے سے ان کا کا روبار حرام نہ ہوگا،البتہ حلال طیب بھی نہیں رہے گا،نیز اس طرح کا معاہدہ تجارتی اخلاقیات کے منافی ہے۔
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن عبادة بن الصامت: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى أن لا ضرر ولا ضرار."
(ابواب الاحکام،باب من بنى في حقه ما يضر بجاره، ج:3، ص: 430، ط:الرسالة)
ترجمہ:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہےکہ:نہ نقصان اٹھاؤ،نہ نقصان پہنچاؤ۔
سنن الترمذی میں ہے:
"وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما."
(ابواب الزھد عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج:4، ص: 346، ط:الرسالة)
ترجمہ :
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہےکہ:لوگوں کے لیے وہ پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتےہو،کامل مسلمان بن جاؤگے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101964
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن