بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تجارت کی غرض سےسونا چاندی باربارخریدنااوربیچنا


سوال

میں نےحال ہی میں اپنا گھر بیچا ہے اور اس کی رقم سے سونا اور چاندی خریدی ہے،  مگر منافع کی نیت سے۔  کیا یہ درست ہے؟ اور بار بار خریدنا اور بیچنا صرف منافع کی غرض سے کیا یہ درست ہے؟ رہنمائی فرما دیں !

جواب

جائز طریقہ سےاتنامال کماناکہ اس سےاپنےاوراپنےاہل وعیال کی معاشی ضروریات پوری کرسکے فرض ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: "حلال روزی کمانافرض کےبعد ایک فرض ہے۔"اورضروت سےزیادہ کمانامستحب ہے،اس شرط پرکہ نیت یہ ہواپنی ضروریات سےجو باقی بچ جائےاسےفقراءاورمحتاج لوگوں پرخرچ کردیں گے، اوراگرزائد مال کمانےسےنیت اپنےوقارکومحفوظ رکھناہو تو یہ مباح ہے، اوراگراس سےفخراورتکبرکااظہارمقصود ہوتو پھر یہ حرام ہے، اگرچہ جائزطریقہ سےاس مال کوحاصل کیاگیاہو۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں آپ کاگھربیچ کراس سےسوناخریدنامنافع کی نیت سے، اس  میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ تجارت تومنافع ہی کی  غرض سےہوتی ہے، اسی طرح خرید کرپھربیچنایہ سب جائز ہے،بشرطیکہ سونا چاندی کی خرید و فروخت نقد کی صورت میں ہو ادھار نہ ہو، یا اس کے علاوہ کوئی اورناجائز طریقہ اس میں شامل نہ ہو۔

كتاب الكسب میں ہے:

"وبعد ذلك الأمر موسع عليه فإن شاء إكتسب وجمع المال وإن شاء أبى لأن السلف رحمهم الله منهم من جمع المال ومنهم من لم يفعل فعرفنا أن كلا الطرفين مباح، وأما الجمع فلما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من طلب الدنيا حلالا متعففا لقي الله تعالى وجهه كالقمر ليلة البدر ومن طلبها مفاخرا مكاثرا لقي الله تعالى وهو عليه غضبان فدل أن جمع المال على طريق التعفف مباح وكان صلى الله عليه وسلم يقول في دعائه اللهم اجعل أوسع رزقي عند كبري وانقضاء عمري وكان كذا فقد اجتمع له أربعون شاة حلوبة وفدك وسهم بخيبر في آخر عمره...ثم بين محمد رحمه الله أن الكسب فيه معنى المعاونة على القرب والطاعات أي كسب كان"

(جوازالکسب لجمع المال مع کون السلامةفي الامتناع من ذالك،ص: 132,131، ط: مكتب المطبوعات الاسلاميةبحلب)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں