
تقریباً ڈیڑھ سال پہلے جھگڑے کے دوران میں نے اپنی بیوی سے کہا:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں" (دو مرتبہ)،اس کے بعد ہم نے مفتی صاحب سے مسئلہ دریافت کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ آپ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔
پھر رات دوبارہ جھگڑا ہوا، اس دوران بیوی میرے پاس بیٹھی تھی، میں نے بیٹی کو آواز دی کہ "بابا کو بلاؤ"، اور اسی وقت میں نے بیوی سے کہا:"میں تمہیں آج طلاق دیتا ہوں"،اب میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟کیا ہم دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل نے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے یہ کہا تھا کہ:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں" تو اس سے سائل کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہو گئی تھیں، رجوع کے بعد سائل کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا تھا، پھر مذکورہ راتجھگڑے کے دوراناپنی بیوی سےجب کہا کہ:"میں تمہیں آج طلاق دیتا ہوں" تو اس سے سائل کی بیوی پرتیسری طلاق بھی واقع ہو گئیں ، اور وہ سائل پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ،نکاح ٹوٹ گیا اس کے بعد سائل کے لیے اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں رہا، لہذابیویاپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو ،اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر کسی اور شخص سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا، ويدخل بها، ثم يطلقها أو يموت عنها."
( كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 473، ط: دار الفكر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ... سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج : 3، ص : 187، ط : دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100338
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن