
میں نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں اس کی بدتمیزی کی وجہ سے کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق، طلاق" تو ان الفاظ سے شرعاً کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟
مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ تین مرتبہ ایک ساتھ طلاق دینے سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض حضرات سے سنا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینےسے ایک واقع ہوتی ہے۔اور بعض کہتے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔
قرآن میں بھی ایک ساتھ تین طلاق کا ذکر نہیں ہے بلکہ طلاق کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے۔اس مسئلہ کو قرآن و حدیث سے سمجھادیں کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینے سے تین طلاقیں ہوجاتی ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے، سائل بیوی پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، شوہر کے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا، یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہوگا، سائل کی بیوی اپنی عدت ( مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو، اور حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ)گزارنے کے بعد مکمل آزاد ہوگی۔
نیز الگ الگ وقت میں طلاق دینے یا بیک وقت تین طلا ق دینے سے طلاق کے وقوع میں کوئی فرق نہیں پڑتا،اگرچہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا شرعاًبہت مذموم ہے ،اس سے اجتناب ضروری ہے ،لیکن اگر اس طرح کوئی طلاق دے گا تو تب بھی قرآن وحدیث مبارکہ ،اقوالِ صحابہ کرام اور چاروں ائمہ کرام کے نزدیک تین طلاق واقع ہوجائیں گی،اکٹھی دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا گمراہی ہے ۔
جمہور مفسرین، محدثین اور فقہائے امت کا یہی موقف ہے کہ اگر کوئی شخص تین طلاقیں دے، خواہ وہ ایک ہی وقت میں دے یا الگ الگ، دونوں صورتوں میں وہ تین ہی طلاقیں شمار ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قرآن کریم میں ارشادباری تعالی ہے:
"الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "(البقرة: (229.230
ترجمہ ’’ وہ طلاق دو مرتبہ (کی )ہے ، پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق، خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ ... پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے۔‘‘ )از بیان القرآن)
اس آیت کی تفسیر میں مولانا ادریس کاندھلوی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
آیت قرآنیہ سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تین طلاق کے بعد رجعت کا حق باقی نہیں رہتا خواہ وہ تین طلاقیں علیحدہ علیحدہ دی ہوں یا اکٹھی دی ہوں تمام صحابہ اور تابعین اور ائمہ مجتہدین کا اس پر اجماع ہے کہ تین طلاقیں جس طرح بھی دی جائیں خواہ مجتمعا اور خواہ متفرقا وہ واقع ہوجاتی ہیں اور لازم سمجھی جاتی ہیں صرف بعض اہل ظاہر اور بعض حنبلیوں کا قول ہے کہ تین طلاق دینے سے ایک طلاق پڑتی ہے اور شیعوں کے نزدیک تین طلاق دینے سے ایک طلاق بھی نہیں پڑتی اور داود ظاہری سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ دفعتہ تین طلاق دینے سے ایک طلاق بھی نہیں پڑتی، اور امام ابوحنیفہ اور امام لک اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل جن کی تقلید اور اتباع پر (سوائے چند ظاہر بین اور خود رائے لوگوں کے) امت محمدیہ کے علماء اور فقہاء اور محدثین اور مفسرین متفق ہیں ان کا متفقہ اور اجماعی فتوی یہ ہے کہ تین طلاق دینے سے تین ہی طلاق واقع ہوجاتی ہیں اور اسی کو امام بخاری علیہ الرحمہ نے اختیار فرمایا جس کے لیے صحیح بخاری میں ایک خاص باب منعقد فرمایا، باب من اجاز الطلاق الثلاث، بقولہ تعالیٰ، الطلاق مرتان۔ بعد ازاں امام قرطبی نے ان تمام شبہات کا جواب دیا کہ جو لوگ تین طلاق کو ایک طلاق بنانے کے لیے پیش کرتے ہیں حضرات اہل علم اصل کی مراجعت فرمائیں۔ حضرت عمر کے عہد خلافت میں تمام فقہاء صحابہ کے مشورہ اور اتفاق سے یہ حکم دیا گیا کہ جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دے گا وہ تین ہی شمار ہوں گی اور جو اس کے خلاف کرے گا اس پر درے پڑیں گ اور سخت سزا کا مستوجب ہوگا اور حضرت عثمان اور حضرت علی اور حضرت ابن عباس کا بھی یہی فتوی ہے تفصیل کے لیے بخاری شرفی اور ہدایہ کی شروع کی مراجعت کی جائے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ تین طلاق کے بارے میں کتاب وسنت اور اجماع صحابہ اور اجماع ائمہ اربعہ کا اتباع کریں اس زمانہ کے چند مدعیان عمل بالحدیث کے کہنے سے حرام کے مرتکب نہ ہوں اور اپنے نسب کو خراب نہ کریں جو شخص اجماع صحابہ کو حجت نہ سمجھے وہ اہل سنت والجماعت سے نہیں۔
حضرت عمر اور حضرت عثمان وحضرت علی (رض) اجمعین) ۔ محلی بن حزم اور زاد المعاد اور اغاثۃ اللفہان لابن القیم میں اور سنن بیہقی میں حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی کا باسانید صحیحہ یہ قول نقل کیا ہے کہ تین طلاق دینے سے عورت مغلظہ بائنہ ہوجاتی ہے اور بدون حلالہ کے اس سے نکاح صحیح نہیں شیخ ابن الہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں کہ خلفاء اور عبادلہ سے صراحۃ یہ ثابت ہے کہ تین طلاق دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں۔
اور اسی پر صحابہ کا اجماع ہے کہ تین طلاق دینے سے تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں جیسا کہ علامہ زرقانی نے شرح موطا میں حافظ بن عبدالبر سے اجماع نقل کیا ہے اور قاضی ابوالولید باجی نے منتقی میں اور امام ابوبکر رازی جصاص نے احکام القرآن میں اور امام طحاوی نے شرح معانی الاثار میں اس پر سلف کا اجماع نقل کیا ہے اور حافظ عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے، فا الراجع فی الموضعین تحریم المتعۃ وایقاع الثلاث للاجماع الذی انعقد فی عھد عمر علی ذالک، الخ۔ اور حافظ ابن رجب حنبلی جو بچپن سے حافظ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کی صحبت میں رہے جب ان پر یہ منکشف ہوا کہ ہمارے استاذ ابن تیمیہ اور ابن قیم بہت سے مسائل میں سلف صالحین کے خلاف ہیں تو اپنی تصانیف میں انکا رد کیا اور اس مسئلہ پر یعنی طلاق ثلاث کے بارے میں ایک خاص کتاب ان کے رد میں لکھی جس کا نام بیان مشکل الاحادیث الواردۃ فی ان الطلاق الثلث واحدۃ رکھا۔ اس کتاب مذکور میں حافظ ابن رجب حنبلی لکھتے ہیں،اعلم انه لم یثبت عن احدمن الصحابة ولا من التابعین ولا من ائمة السلف المعد بقولھم فی الفتاوی فی الحلال والحرام شئی صریح فی ان الطلاق الثلاث بعد الدخول یحسب واحدۃ اذا سبق بلفظ واحدا، کذا في الاشفاق علی احکام الطلاق للعلامة کو ثري ص ٣٥۔
(ج: 1، ص: 440/41، ط: مکتبۃ المعارف)
حدیث مبارک میں ہے:
"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."
(صحيح البخاري ،كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، ج: 2، ص: 300، ط: رحمانية)
ترجمہ:”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں،پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کیا، اور اس دوسرے شوہر نے بھی اسے طلاق دے دی،(تو لوگوں نے) نبی کریم ﷺ سے پوچھا،کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گئی؟آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں، یہاں تک کہ وہ (دوسرا شوہر) اس کے شہد کا مزہ چکھے جیسے پہلے (شوہر) نے چکھا تھا۔“
موطأ امام مالک میں ہے:
"حدثنا مالك؛ أنه بلغه، أن رجلا قال لابن عباس: إني طلقت امرأتي مائة ، فماذا ترى؟ قال ابن عباس: طلقت ثلاثا، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله لعباً هزوا."
(كتاب الطلاق، باب ما جاء في البتة، ج: 1، ص: 605، ط: مؤسسة الرسالة )
ترجمہ:”مالک نے بیان کیا کہ ان تک یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے ابن عباسؓ سے کہا: میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں، تو آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟ ابن عباسؓ نے فرمایا: تمہاری تین طلاق واقع ہوگئیں، اور باقی ستانوے کے ذریعے تم نے اللہ کی آیات کو کھیل اور مذاق بنایا ہے۔“
احكام القرآن للجصاص میں ہے:
"فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإن كانت معصية.
وقد روى سعيد بن جبير ومالك بن الحارث ومحمد بن إياس والنعمان بن أبي عياش، كلهم عن ابن عباس فيمن طلق امرأته ثلاثا: أنه قد عصى ربه وبانت منه امرأته. وقد روي حديث أبي الصهباء على غير هذا الوجه، وهو أن ابن عباس قال: كان الطلاق الثلاث على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وصدرا من خلافة عمر واحدة، فقال عمر: لو أجزناه عليهم وهذا معناه عندنا أنهم إنما كانوا يطلقون ثلاثا فأجازها عليهم. وقد روى ابن وهب قال: أخبرني عياش بن عبد الله الفهري عن ابن شهاب عن سهل بن سعد: أن عويمرا العجلاني لما لاعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين امرأته قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فهي طالق ثلاثا فطلقها ثلاثا قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنفذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك عليه."
(من سورة البقرة، باب ذكر الاختلاف في الطلاق بالرجال، ج: 1، ص: 469/70، ط: دار الكتب العلمية)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛ لأن أهل التأويل اختلفوا في مواضع التطليقة الثالثة من كتاب الله قال بعضهم هو قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] بعد قوله {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229] وقالوا: الإمساك بالمعروف هو الرجعة، والتسريح بالإحسان هو أن يتركها حتى تنقضي عدتها.
وقال بعضهم: هو قوله تعالى {أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229] فالتسريح هو الطلقة الثالثة، وعلى ذلك جاء الخبر، وكل ذلك جائز محتمل غير أنه إن كان التسريح هو تركها حتى تنقضي عدتها كان تقدير قوله سبحانه، وتعالى {فإن طلقها فلا تحل له} [البقرة: 230] أي: طلقها تطليقة ثالثة، وإن كان المراد من التسريح التطليقة الثالثة كان تقدير قوله تعالى {فإن طلقها} [البقرة: 230] أي: طلقها طلاقا ثلاثا، فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره."
(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 187 ط: دار الکتب العلمیة)
وفیہ ایضاً:
"وأما الذي يرجع إلى العدد فهو إيقاع الثلاث أو الثنتين في طهر واحد لا جماع فيه سواء كان على الجمع بأن أوقع الثلاث جملة واحدة أو على التفاريق واحدا بعد واحد بعد أن كان الكل في طهر واحد وهذا قول أصحابنا."
(كتاب الطلاق، فصل في طلاق البدعة، ج: 3، ص: 94،ط: دار الكتب العلمية)
المحيط البرہانی میں ہے:
"امرأة قالت لزوجها: طلقني ثلاثاً فقال الزوج أنت طالق أو قال: فأنت طالق تقع واحدة هكذا رواه ابن سماعة، وهشام عن محمد رحمه الله علل محمد في رواية هشام رحمه الله فقال: لأن هذا ليس بجواب قال في رواية هشام: وإن عنى الجواب في قوله أنت طالق استحسن أن جعلها ثلاثاً، ولو كان قال: قد طلقتك تقع الثلاث فكذا لو قال: فعلت."
(كتاب الطلاق،الفصل الرابع فيما يرجع إلى صريح الطلاق، ج: 3، ص: 216، ط: دار الكتب العلمية)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان. متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء."
(كتاب الطلاق،الفصل الأول في الطلاق الصريح، ج: 1، ص: 355/56، ط: دار الفکر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامة، لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، ویدخل بها، ثم یطلقها او یموت عنها."
(کتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 473، ط: دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704102001
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن