
میری شادی کو تین سال ہوچکے ہیں، آج سے ایک سال قبل میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہوتے رہے ہیں، میری بیوی اور اس کے والد وغیرہ مجھ سے طلاق کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، میں اپنی اہلیہ کو کراچی لایا، تاکہ معاملہ ٹھنڈا ہو، لیکن کوئی حل نہ نکلا، ایک دن میں غصہ میں تھا اور ایک دوست کے موبائل پر ویڈیو بنائی اور اپنے سسر اور سالے کو وہ ویڈیو بھیجی، اس میں میں نے اپنے ساس، سسر اور بڑے سالے کو مخاطب کر کے کہا کہ"میں نے تمہاری بیٹی کو تین طلاقیں دے دی ہیں" اب میرے والد کو کسی نے کہا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو، تو رجوع ہوجائے گا، نیز میرے والدین نے مجھے کہا کہ آپ مفتی صاحب کو بتادو کہ یہ طلاق میں نے مذاق میں دی تھی، اب مذکورہ صورتِ حال میں میرے نکاح کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے موبائل میں ویڈیو بنا کر اپنے سالے اور سسر کو بھیجی اور ان کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ میں نے تمہاری بیٹی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب رجوع کی یا مزید ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ، نیز مذاق میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے سے طلاق کے وقوع یا بیوی کی حرمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی ایسا کرنے سے سائل کو رجوع کا حق حاصل ہوگا، لہٰذا سائل کے والدین کا مؤقف اور مشورہ شرعا بالکل غلط ہے، والدین اولاد کے خیر خواہ ہوتے ہیں، زنا اور حرام کاری میں اولاد کو لگانا، یہ اولاد کے ساتھ خیر خواہی ہرگز نہیں، بلکہ بد خواہی ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:473، ط:دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100997
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن