
میرے شوہر نے مجھے تین مرتبہ کہا کہ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اور آپ آزاد ہو، کیا طلاق ہوگئی؟ اگر ہوگئی تو کتنی ہوئی ہیں؟ اگر تین ہوگئی ہیںِ تو اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو ان الفاظ کے ساتھ تین مرتبہ طلاق دی کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوںِ طلاق دیتا ہوںِ طلاق دیتا ہوں،" تو اس سے سائلہ پرتینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب رجوع کی یا مزید ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:473، ط:دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101066
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن