
میں نے اپنی بیوی کو تین سال پہلے یہ جملہ کہا کہ "جاؤ، میں طلاق دیتا ہوں"، میں نے یہ جملہ دو مرتبہ کہا، پھر اس نے کہا کہ آپ تیسری بھی دو، تو میں نے کہا کہ "ہاں جاؤ، میں دیتا ہوں"۔ اس کے بعد اہل حدیث حضرات کے مدرسے سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ ایک طلاق ہوئی ہے، آپ رجوع کرلیں، پھر میں نے رجوع کرلیا تھا، کچھ وقت کے بعد پھر سے جھگڑے شروع ہوگئے، بہت زیادہ بد زبانی کرتی تھی، تو میں نے اب اس کو یہ کہا: جاؤ میں تمہیں تیسری بھی طلاق دیتا ہوں۔
اب بیوی اور اس کا بھائی یہ کہتا ہے کہ اب بھی رجوع ہوسکتا ہے، بیوی کہتی ہےکہ میں تمہارے پاس سے نہیں جاؤں گی، ورنہ مجھے گھر لے کر دواور میں کورٹ سے ڈیڑھ پونے دو لاکھ روپے بچوں کے خرچہ کے لیے لکھواؤں گی، حالاں کہ بچے ماں کے پاس جانے کو بھی تیار نہیں ہیں۔
میرے تین بچے ہیں، بڑا بیٹا پندرہ سال کا ہے، چھوٹا بیٹا دس سال کا اور ایک بیٹی ہے جس کی عمر سات سال ہے،سوال یہ ہے کہ ہمارے درمیان طلاق کا کیا حکم ہے اور اب ان بچوں کی پرورش اور خرچ کا شرعا کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو جب یہ الفاظ دو مرتبہ کہے تھے کہ "جاؤ، میں طلاق دیتا ہوں" تو یوں کہنے سے اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی تھیں، اس کے بعد بیوی کی طرف سے تیسری طلاق کے مطالبہ پرسائل نے جب یہ کہا کہ "ہاں جاؤ، میں دیتا ہوں"تو اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی تھی جس کے ساتھ ہی سائل کا مذکورہ خاتون کے ساتھ نکاح ختم ہوگیا تھا، اور مطلقہ بیوی سائل پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی تھی،سائل کے لیےاس کے بعد رجوع کرنا یا دوباہ نکاح کرنادرست نہیں تھا، جو عرصہ اس کے بعد شوہر اور بیوی کی حیثیت سے سائل کا مطلقہ خاتون کے ساتھ گزارا، اس پر صدق دل سے دونوں پر توبہ و استغفار کرنالازم ہے، نیز بیوی اور اس کے بھائی کا رجوع کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
عدت کے دوران مطلقہ کو نان نفقہ اور رہائش فراہم کرنااز روئے شرع سابق شوہر کے ذمہ لازم ہےتاہم عدت کے بعدمطلقہ خاتون کی رہائش اور نفقہ سائل کے ذمہ لازم نہیں، لہذا مطلقہ خاتون کا عدت کے بعد گھر اوراپنے لیے ماہانہ خرچہ کی رقم کا مطالبہ پورا کرنا شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہے۔
نیز طلاق کے بعد اولاد کی پرورش سلسلے میں ضابطہ یہ ہے کہ لڑکے کی عمر جب تک سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال نہ ہوجائے تو اس وقت تک ماں ان کی پرورش کی حق دارہوتی ہے، مذکورہ عمر مکمل ہونے کے بعدوالد،بچوں کو اپنے زیر نگرانی رکھنے کا حق دار ہوتا ہے، نیز اولاد میں سے بیٹی کا نفقہ اس کی شادی تک اور بیٹے کا نفقہ اس کے کمانے کے قابل ہونے تک والد پر لازم ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے دونوں بیٹے ( جن کی پرورش کی عمر پوری ہوچکی ہے)سائل کی تربیت میں رہیں گے اور سائل کی بیٹی کی عمر جب تک نو سال نہ ہوجائے، اس وقت تک وہ اپنی ماں کی پرورش میں رہے گی،نوسال کی عمر تک پہنچ جانے کے بعد اسے بھی سائل تربیت کے لیے لے سکتا ہے ۔
قرآن کریم میں ہے:
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (البقرة: 230)
ترجمہ:اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی تو جب وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔ (بیان القرآن)
رد المحتار میں ہے:
"كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين ... (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا طلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد".
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به، ج: 3، ص: 293، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق، فصل في حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: دار الکتب العلمیة)
البحرالرائق میں ہے:
"معتدة الطلاق والموت يعتدان في المنزل المضاف إليهما بالسكنى وقت الطلاق والموت ولا يخرجان منه إلا لضرورة لما تلوناه من الآية والبيت المضاف إليها في الآية ما تسكنه كما قدمناه سواء كان الزوج ساكنا معها أو لم يكن."
(باب العدة، فصل في الإحداد، ج:4، ص:167، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين."
(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 542، ط: دار الفکر)
و فیہ ایضا:
"و نفقة الإناث واجبة مطلقًا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة.
و لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزًا عن الكسب لزمانة، أو مرض و من يقدر على العمل لكن لايحسن العمل فهو بمنزلة العاجز، كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج: 1، ص: 562، ط: دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100926
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن