
میں نے اکتوبر 2008 میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، طلاق کے الفاظ یہ تھے" میں آپ کو طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں،" تو ان الفاظ سے میری بیوی کو یہ تین طلاقیں کب واقع ہوئیں، فوراً واقع ہوئیں؟ یا کچھ دیر بعد؟ اگر فوراً واقع ہوئیں تو اس کے کتنے وقت بعد مجھے دوسرے نکاح کا شرعاً اختیار حاصل ہے، کیوں کہ میں نے 2009 میں دوسری عورت سے نکاح کر لیا تھا، تو یہ دوسرانکاح میرا منعقد ہوا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب بیوی کو اکتوبر 2008تین مرتبہ ان الفاظ سے طلاق دی،کہ " میں آپ کو طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں،"تو مذکورہ الفاظ کی وجہ سے سائل کی بیوی پر اسی وقت سے تینوں طلاقیں واقع ہو گئی تھیں، اور سائل پر بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی تھی ،نکاح ٹوٹ چکا تھا، اس کے بعد رجوع کرنا اور ساتھ رہنا قطعاً جائز نہیں ، مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو تو ، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت) مکمل کر کے اپنی زندگی گزارنے میں آزاد ہے۔
باقی سائل نے دوسرا نکاح اگر شرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ کیا ہے تو ایسی صورت میں نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے۔ نیزسائل نےجب اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو وہ تینوں طلاقیں فورا واقع ہو گئی تھیں، کسی دوسری عورت سے نکاح کرنے کے لیے پہلی بیوی کو طلاق دینا اور طلاق کے بعداس کی عدت کے ختم ہونے کا انتظار کرنا مرد کے لیے ضروری نہیں۔
قرآنِ کریم میں باری تعالٰی کا ارشاد ہے:
"{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}." (البقرة: 230)
ترجمہ:"اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی تو جب تک وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔" (بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: ثلاثة متفرقة) و كذا بكلمة واحدة بالأولى ... و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين الي أنه يقع الثلاث".
( كتاب الطلاق : مطلب طلاق الدور ،٣/٣٣٣ ط:سعيد)
بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره}،وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً".
(کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط : سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السادس فى الرجعة، فصل فيماتحل به المطلقة ومايتصل به، ج:1، ص: 473، ط: مكتبه رشيديه)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب.
(قوله: وشرط حضور شاهدين) أي يشهدان على العقد".
(كتاب النكاح،3 / 21 - 23، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100604
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن