
میری بیٹی کا نکاح میرے کزن کے بیٹے سے ہواتھا،جس کا مہر 5 تولہ سونا (دو تولہ معجل اور تین تولہ مؤجل) مقرر تھا۔
اب میرے داماد نے میری بیٹی کو تین بار یہ الفاظ کہے ہیں:’’پہ ماتہ طلاقہ ئے‘‘(تم مجھ پر طلاق شدہ ہو)۔درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔ان الفاظ سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور نکاح باقی رہاہے یا نہیں؟
2۔مہر جو مقرر ہوا ہے ،کیا پورے 5 تولہ لڑکی کو دینالازم ہوگا؟جبکہ شب باشی ہوئی ہے۔
3ْ۔لڑکی کو والدین کی طرف سے ملنے والاجہیز کیا لڑکی کا حق ہےیا وہ لڑکے کے پاس رہے گا؟
4۔عدت کی مدت کتنی ہوگی؟
1۔صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ شوہر نے بیوی کو تین مرتبہ یہ الفاظ کہے ہیں کہ’’پہ ماتہ طلاقہ ئے‘‘(تم مجھ پر طلاق شدہ ہو)،تو ان الفاظ سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،مطلقہ بیوی شوہرپر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، نکاح ختم ہوگیا ہے، شوہر کے لیے اس بیوی سے رجوع کرنا، یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے، مذکورہ خاتون اپنی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
2۔نکاح میں جو مہر مقرر ہوا ہے وہ پورا دینالازم ہے،اگر 5 تولہ سونا مہر مقرر ہوا تھا تو پورا 5 تولہ سونا دے لازم ہے۔
3۔جہیز کا سامان عورت کی ملکیت ہوتا ہے،طلاق کے بعد عورت کو اپنے جہیز کا سامان واپس لینے کا پورا حق حاصل ہے۔
4۔ اگر مطلقہ عورت حاملہ نہیں ہے تو اس کی عدت پوری تین ماہواریاں (حیض) ہے،یعنی طلاق کے بعدعورت کو پوری تین ماہواریاں آجائیں اور وہ پاک ہوجائےتو عدت مکمل ہوجائے گی،اگر مطلقہ عورت حاملہ ہوتو اس کی عدت وضع ِ حمل ہے،یعنی جب بچہ کی پیدائش ہوگی اس وقت عدت مکمل ہوگی۔
قرآن مجید میں ہے:
"{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}."
[البقرة: 229، 230]
فتاوى ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة،1 /473، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."
(ج:3 /ص:158، باب المہر، ط: سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وهي في) حق (حرة) ولو كتابيةً تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعياً (أو فسخ بجميع أسبابه) ... (بعد الدخول حقيقة، أو حكماً) أسقطه في الشرح، وجزم بأن قوله الآتي: "إن وطئت" راجع للجميع، (ثلاث حيض كوامل)؛ لعدم تجزي الحيضة، فالأولى لتعرف براءة الرحم، والثانية لحرمة النكاح، والثالثة لفضيلة الحرية."
(کتاب الطلاق، باب العدۃ، 3/ 504، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الطلاق باب العدۃ 1 / 528، دار الفکر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج: 1، ص: 304، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101232
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن