
میں نے اپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ میں نے تمہیں طلاق دی، تین دفعہ کہا، میری ایک بچی ہے جو والدہ کے ساتھ گھر میں رہتی ہے، میری بیٹی کی عمر 34 سال ہے اور ایک بیٹا ہے جو پردیس میں ہے، میرا ذاتی گھر ہے مگر میں نے اسے کرایہ پر دیا ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں الگ کمرہ میں رہ سکتا ہوں؟ گھر بیوی کا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں تین طلاق کے بعداگر دونوں عمر رسيدہ ہیں اور مکان میں الگ كمرے ہوں اور غسل خانہ اور بیت الخلاء بھی الگ الگ ہو تو اپنی جوان اولاد کے ساتھ پردہ کا خیال کرتے ہوئے اجنبیوں کی طرح اس طرح رہ سکتے ہیں کہ دونوں کا آمنا سامنا نہ ہو، اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی نہ ہو ، اور اگر پردہ نہ ہو سکے یا گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو دونوں کا ایک مکان میں رہنا درست نہ ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى.
وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف.
(قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك."
(كتاب الطلاق، باب العدة، ج:3، ص:538، ط: سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102718
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن