
سات ماہ پہلے میں نے اپنی بیوی کو لڑائی کے دوران ایک طلاق دی تھی، الفاظ یہ تھے کہ "میں تجھے ایک طلاق دیتا ہوں" اس کے ایک، دو دن بعد عدت کے اندر ہی میں نے رجوع کرلیا تھا، پھر اس کے دو ماہ بعد جھگڑے کے دوران میں نے یہ جملہ بول دیا تھا کہ "میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں"۔ سوال یہ ہے کہ شرعا اس جملے کا کیا حکم ہے؟ ہم دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ ہمارے لیے ساتھ رہنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ میرے اس جملے "میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں" کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور میری بیوی حاملہ بھی نہیں ہے۔
ایک ساتھ یا ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینا خلافِ سنت ہے، ایسا کرنے والا سخت گناہ گارہے، جس کی وجہ سے صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ یا ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، چناں چہ صورتِ مسئولہ میں آپ نے سات ماہ پہلے جب پہلی مرتبہ بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ "میں تجھے ایک طلاق دیتا ہوں" تو ان الفاظ کی وجہ سے آپ کی بیوی پر ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی تھی، اس کے بعد عدت میں رجوع کرنے کی وجہ سے نکاح قائم رہا، پھر دو ماہ بعد جب آپ نے یہ الفاظ کہے کہ "میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں" تو ان الفاظ کی وجہ سے آپ کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو گئی تھیں اور آپ دونوں کا نکاح ٹوٹ گیا تھا، آپ دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ قائم ہوچکی ہے، اب رجوع بھی جائز نہیں ہے اور دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہنا بھی جائز نہیں ہے، اگر خاتون کی عدت (مکمل تین ماہواری) گزرچکی ہو تو وہ کسی بھی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہیں۔اگر آپ کی سابقہ بیوی عدت گزرنے کے بعدکسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیں، پھر اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ طلاق دے دے تو پھر اس دوسرے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد آپ کی سابقہ بیوی کا آپ کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا."
(کتاب الطلاق، الطلاق البدعی، ج:1/ 349، ط: رشيدية)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاعَ الثلاث معًا وإِن كانت معصية."
(ج:1، ص:529 ، ط: قدیمی)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها، وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1/ 472، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100750
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن