
میری اہلیہ کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے لڑائی ہوئی، جس کے بعد معاملہ کورٹ تک چلاگیا، اور خلع کا کیس دائر کیا، لیکن پھر خلع کی جگہ یہ صلح ہوئی کہ اس کے بعد اگر میں بداخلاقی سے پیش آؤں تو مجھ پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ ہوگا۔ پھر سسر صاحب نے اپنی بچی کو میرے ساتھ گھر بھیجنے سے انکار کردیا اور طلاق کا مطالبہ کیا، میں نے ایک مجلس میں تین طلاق دے دی، طلاق کے الفاظ یہ ہیں: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"، تین مرتبہ کہہ دیے۔
اور یہ سب لڑکی کے والدین کے زبردستی کرنے سے ہوا، اور میں نے مجبوراً طلاق دےدی، اب چار پانچ دن ہورہے ہیں کہ میری اہلیہ کو میرے گھر واپس بھیج دیا، اب اہلیہ ہمارے گھر میں موجود ہے۔
میں نے کچھ بیانات یوٹیوب پر سنےاس میں بعض نے طلاق واقع ہونے کا کہا ہے، اور بعض نے طلاق واقع ہونے کا حکم نہیں لگایا، تو براہ کرم آپ شرعی حکم بتادیں اور ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہم میاں بیوی ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں جب سائل کے سسر نے سائل کی بیوی( اپنی بیٹی) کو سائل کے ساتھ بھیجنے سے انکار کردیا اور سائل سے طلاق کا مطالبہ کیا، اور اس پر سائل نے ایک ہی مجلس میں یہ الفاظ " کہ میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ زبان سے ادا کیے، تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر سائل پر اس کی بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اور دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوگیا ہے، اب رجوع جائز نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، سائل کی بیوی اپنی عدت( مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
نیز صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائل ہوش و حواس میں تھے اس لیے یہ طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، ساس و سسر کے زبردستی کرانے کا اعتبار نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع ميں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حلّ المحلّيّة أيضاً حتّى لا يجوز له نكاحها قبل التّزوجّ بزوج آخر؛ لقوله عزّ وجلّ{فإن طلّقها فلا تحلّ له من بعد حتّى تنكح زوجا غيره}[البقرة: 230] ، وسواء طلّقها ثلاثا متفرّقا أو جملةً واحدةّ."
(كتاب الطّلاق، فصل في حكم الطّلاق البائن، ج: 3، ص: 295، ط: مكتبه رشيديه)
فتاوی شامی میں ہے:
"كرّر لفظ الطّلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد ديّن."
(کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، ج: 3، ص: 293، ط: ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:
"(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها)
(قوله فإن طلاقه صحيح) أي طلاق المكره."
(کتاب الطّلاق ج: 3 ص: 235 ط:ایچ ایم سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101596
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن