بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چار سال قبل تین بار طلاق دینے کا حکم


سوال

چار سال پہلے میرے شوہر نے مجھے  لڑائی کے دوران کہا تھاکہ " جا میں تجھے طلاق دے رہا ہوں، طلاق دے رہا ہوں،ابھی عشاء کی اذان ہو رہی  ہے گواہ بنا کر طلاق دیتا ہوں،" اس کے بعد سے میں علیحدہ ہو گئی تھی، اور عدت میں بھی بیٹھی تھی، تین سال کے بعد ہمارے بڑے درمیان میں آئے ، انہوں نے کہا اس طرح طلاق نہیں ہوتی، تم ڈرامہ کر رہی ہو۔

ابھی میرے سابقہ شوہر نے دوسری شادی کی، تو پھر اب دوبارہ سب کے سامنے مجھے تین طلاق دیں ، اور کہا کہ پہلے بھی طلاق دے چکا ہوں، لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً  سائلہ کے شوہر نےچار سال پہلے سائلہ کو ان الفاظ سے طلاق دی تھی کہ  " جا میں تجھے طلاق دے رہا ہوں، طلاق دے رہا ہوں،ابھی عشاء کی اذان ہو رہی گواہ بنا کر طلاق دیتا ہوں،" تو  مذکورہ الفاظ کی وجہ سے سائلہ پر اسی وقت سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی  تھیں ، اور سائلہ   اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی تھی ،نکاح ٹوٹ چکا تھا ، اس کے بعد  رجوع کرنا اور ساتھ رہنا قطعاً جائز نہیں تھا،سائلہ کی عدت ( تین ماہواریاں ) چونکہ مکمل ہو چکی ہے اسی لیے سائلہ اگر  کسی دوسری جگہ نکاح کر کے  اپنی زندگی گزارنا چاہے تو گزار سکتی ہے۔

اب دوبارہ تین طلاقیں لغو شمار ہوں گی۔

تین طلاق کے بعد سائلہ کے گھر والوں کا یا کسی بھی  شخص کابلاوجہ انکار کرنا اور  سائلہ کو واپس بھیجنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

قرآنِ کریم میں باری تعالٰی کا ارشاد ہے:

"{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}." (البقرة: 230)

ترجمہ:"اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی  تو جب تک وہ عورت دوسرے سے  نکاح  نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔" (بیان القرآن)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ثلاثة متفرقة) و كذا بكلمة واحدة بالأولى ... و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين الي أنه يقع الثلاث".

(كتاب الطلاق : مطلب طلاق الدور ،٣ /٣٣٣  ط:سعيد)

بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره}،وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً".

(کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط : سعید) 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب السادس فى الرجعة، فصل فيماتحل به المطلقة ومايتصل به،  ج:1، ص: 473، ط: مكتبه رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101708

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں