
میرے شوہر نے شادی سے بہت پہلے، تقریباً 12 سال کی عمر میں نشہ کرنا شروع کیا تھا۔ ان کی موجودہ عمر 44 سال ہے۔ شروع میں وہ میرے ساتھ اور بچوں کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے تھے، لیکن نشے کی عادت کی وجہ سے ان میں شدید غصہ آ جاتا تھا۔
بعد میں ان کا ذہنی توازن متاثر ہونے لگا، جس پر ہم نے ماہر نفسیات سے رجوع کیا۔ ڈاکٹروں نے علاج کے لیے ادویات تجویز کیں اور یہ بھی بتایا کہ اگر وہ دوا چھوڑ کر دوبارہ نشہ کرنے لگے، تو ان کا ذہنی توازن مزید بگڑ سکتا ہے۔
اب حال ہی میں، دو دن پہلے، انہوں نے مجھ سے کہا:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔"میرے اور شوہر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
اب میری آپ سے گزارش ہے کہ شرعی طور پر یہ واضح کریں:
کیا یہ ایک طلاق شمار ہوگی یا تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں؟
اگر تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں تو ایسی صورت میں ہمیں اب کیا کرنا چاہیے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کو شوہر نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دےدی ہیں تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اور سائلہ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہیں، نکاح ختم ہو گیا ہے،اب رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور اب دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوگئے ہیں، دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں، لہذا سائلہ اپنی عدت (تین مکمل ماہ واریاں اگر حمل نہ ہوااور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة"
( کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:473، ط:رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى.
وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف.
(قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك."
(كتاب الطلاق، باب العدۃ، فصل في الحداد، ج:3، ص:538، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101059
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن