
میرا اپنی بیوی سے گھر یلو معاملات پر جھگڑا ہوا، جس پر میرے منہ سے یہ الفاظ غصہ میں نکلے "طلاق، طلاق، طلاق" یہ الفاظ جب میرے منہ سے نکلے میرے دل میں بیوی کو فارغ کرنا مقصود نہ تھا، نہ ہی میں نے اس وقت اپنی بیوی کا نام لیا تھا، البتہ میرا منہ اس وقت اپنی بیوی کی طرف تھا۔
صورت مسؤلہ میں سائل نےجھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو جب یہ الفاظ روبروکہے کہ " طلاق، طلاق، طلاق" تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں، نکاح ختم ہو چکاہے، بیوی حرمت مغلظہ کا ساتھ حرام ہوگئی ، اب رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کی گنجائش نہیں۔
قرآن مجید میں ہے:
" الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ . . . فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (230) "
ترجمہ:وہ طلاق دو مرتبہ (کی) ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق خواہ چھوڑ دینا خوش عنوانی کے ساتھ ۔ ۔ ۔ پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دیدے عورت کو تو پھر وہ اس کے لیے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے ۔
حاشیۃ ابن عابدین میں ہے:
" قوله ( لتأكيد ) نحو أنت طالق طالق إن شاء الله إذا قصد التأكيد فإنه تقدم في الفروع قبيل الكنايات أنه لو كرر لفظ الطلاق وقع الكل فإن نوى التأكيد دين۔"
(کتاب الطلاق،ج:3، ص367، ط:ایچ ایم سعید)
عالمگیریہ میں ہے:
"متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله يا مطلقة أنت طالق أو طلقتك أنت طالق ولو ذكر الثاني بحرف التفسير وهو حرف الفاء لا تقع أخرى إلا بالنية كقوله طلقتك فأنت طالق كذا في الظهيرية. "
(کتاب: الطلاق،باب: ایقاع،فصل: طلاق الصریح،ج:1، ص:356، ط: نورانی کتب خانہ،)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101679
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن