
میرے سالے نے اپنی سترہ سالہ بیٹی کے سامنے غصہ میں آکر اپنی بیوی کو تین طلاقیں ان الفاظ کے ساتھ دیں "طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی" تو کیا ان الفاظ کے ذریعہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اگر طلاق ہوئی ہے، تو کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟ نیز اب رجوع کا کیا طریقہ ہوگا شریعت کی رو سے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ بیوی کا نان نفقہ کس کے ذمہ ہوگا اور تینوں بچوں کا نفقہ کس کے ذمہ ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً شوہر نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ تین طلاقیں دیں کہ: "طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی" تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب رجوع یا تجدیدِ نکاح کی کوئی گنجائش نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:473، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة)
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:609، ط:سعيد)
اولاد میں سے لڑکی کی جب تک شادی نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس کے نفقہ کی ذمہ داری والد پر بقدرِ استطاعت ہوگی، نیز اس کی شادی کے اخراجات بھی بقدرِ استطاعت والد پر ہی ہوں گے، خواہ بیٹی ماں کے پاس رہے یا والد کے ساتھ رہے اور بیٹا جب تک کمانے کے قابل نہ ہوجائے، اس کا نفقہ والد کے ذمہ ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة. ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة."
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:563، ط:دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144712101055
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن