بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

صریح الفاظ میں تین بار طلاق دینے کا حکم


سوال

میں سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہوں،میرے بیوی، بچے پاکستان میں رہتے ہیں، میں جب اپنی بیوی کو کسی بات کے لیے منع کرتا تھا ، تو وہ نہیں مانتی تھی، اور اس کے برعکس کرتی تھی،اور میرا ان باتوں پر جھگڑا ہوتا تھا،ایک دن جھگڑا اتنا بڑھا کہ میں نے فون پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں  ایک ہی جملے میں دے دیں۔ اب کیا وہ میرے نکاح میں ہے یا نہیں؟

وضاحت : طلاق ان الفاظ میں دی تھی کہ " جاؤ ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ۔"

جواب

 صورتِ مسئولہ میں سائل نےجھگڑے کے دوران    جب بیوی کو  تین مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ  " جاؤ ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ۔" تو  مذکورہ الفاظ کی وجہ سے  سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی  ہیں، اور  اسی وقت سے سائل پر بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی  ہے ،نکاح ٹوٹ چکا ہے، اس کے بعد  رجوع کرنا اور ساتھ رہنا قطعاً جائز نہیں ، مطلقہ اپنی عدت ( پوری تین ماہواریاں  اگر حمل نہ ہو تو ، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت) پوری کر کے نکاح سے مکمل طور پر آزاد ہے۔

قرآنِ کریم میں باری تعالٰی کا ارشاد ہے:

"{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}." (البقرة: 230)

ترجمہ:"اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی  تو جب تک وہ عورت دوسرے سے  نکاح  نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔" (بیان القرآن)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ثلاثة متفرقة) و كذا بكلمة واحدة بالأولى ... و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين الي أنه يقع الثلاث".

( كتاب الطلاق : مطلب طلاق الدور ،٣/٣٣٣  ط:سعيد)

بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره}،وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً".

(کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط : سعید) 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب السادس فى الرجعة، فصل فيماتحل به المطلقة ومايتصل به،  ج:1، ص: 473، ط: مكتبه رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101384

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں