
میرے شوہر نے مجھے فون کیا کہ چار بج چکے ہیں، گھر سے نکلو میں آ چکا ہوں، شوہر نے کہا کہ تم مجھے ہر وقت بیزار کرتی ہو، تمہاری حرکتوں سے میں بیزار آ چکا ہوں،تو میں نے کہا میں مشین تھوڑی ہوں، تھوڑا سا ٹھہر جاؤ، تو میرے شوہر نے غصے کی حالت میں مجھے کہا کہ " تم کو میں نے طلاق دی، تم کو میں نے طلاق دی، تم کو میں نے طلاق دی"اس کے بعد میں رونے لگ گئی، اور میں نے فون بند کر دیا، میری زندگی تو برباد ہو گئی۔برائے کرم آپ مجھے اس مسئلے کا شرعی حل بتائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو ان الفاظ سے طلاق دی ہےکہ " تم کو میں نے طلاق دی، تم کو میں نے طلاق دی، تم کو میں نے طلاق دی"تو مذکورہ الفاظ کی وجہ سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، اور اسی وقت سےسائلہ شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے ،نکاح ٹوٹ چکا ہے، اب رجوع کرنا اور ساتھ رہنا قطعاً جائز نہیں ، سائلہ اپنی عدت ( تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو تو ، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت) پوری کر کے نکاح سے مکمل طور پر آزاد ہے۔
قرآنِ کریم میں باری تعالٰی کا ارشاد ہے:
"{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}." (البقرة: 230)
ترجمہ:"اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی تو جب تک وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔" (بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: ثلاثة متفرقة) و كذا بكلمة واحدة بالأولى ... و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين الي أنه يقع الثلاث".
( كتاب الطلاق : مطلب طلاق الدور ،٣/٣٣٣ ط:سعيد)
بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره}،وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً".
(کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط : سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السادس فى الرجعة، فصل فيماتحل به المطلقة ومايتصل به، ج:1، ص: 473، ط: مكتبه رشيديه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101343
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن