بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مَیں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں طلاق،طلاق کا حکم


سوال

زید اپنی بیوی کو یہ کہتا ہے کہ مَیں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں ، اور پھر اِس طرح کہتا ہےکہ طلاق طلاق, تو سوال یہ ہے کہ اِس طرح سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی دو یا تین؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب زید  نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے: " میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں " تو ان الفاظ کے کہنے کی وجہ سے  اس کی بیوی پر اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں، نکاح ختم ہو گیا، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی، اب رجوع جائز نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔بیوی اپنی عدت (تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک عدت ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ۔

قرآن مجید میں ہے :

"فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ."(البقره ، آیت نمبر۲۳۰)

ترجمہ:"اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی  تو جب وہ عورت دوسرے سے  نکاح  نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔ "(بیان القرآن)

احكام القرآن للجصاص میں ہے:

 "فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاعَ الثلاث معا وإن كانت معصية."

(ج: 1، صفحه: 529، ط: قدیمی)

فتح القدیر میں ہے:

"ذهب جمهور الصحابة والتابعین ومن بعدہم من أئمة المسلمین الی أنه یقع ثلاثاً."

(فتح القدیر، کتاب الطلاق، ج:3، ص:469، ط: دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق باب الرجعة،  ج : 1، ص: 473، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100678

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں