
شوہر نے بیوی کو لڑائی جھگڑےکےدوران یہ الفاظ کہےکہ"میں تمہیں ہوش وحواس میں طلاق دیتاہوں،طلاق دیتاہوں،طلاق دیتاہوں"۔
1:اب دریافت امر طلب یہ ہے کہ اس صورت میں بیوی کو طلاق ہوئی یانہیں،اگر ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں ہوئی ہیں،اگر تین ہوئی ہوں تو واپسی کی کوئی صورت ہے؟
2:سائل کاآٹھ مہینےکاایک بچہ ہے،اس کی پرورش کا کیاحکم ہے،اگر بیوی سائل کو دینا چاہے توکیا سائل کے لیے اس کو اپنے پاس رکھناجائزہوگا؟
3:سائل نے بیوی کو حق مہر 3تولہ سوناجوکہ مہر مؤجل تھااور دوہزار روپے جوکہ معجل تھانہیں دیاہے،اس کا کیاحکم ہے؟
4:بیوی کےپاس جتناسال بچہ رہےگا،اس کا کتنا خرچہ شوہرپرلازم ہوگا؟
1:صورت مسئولہ میں شوہر نےبیوی کو یہ کہاکہ"میں تمہیں ہوش وحواس میں طلاق دیتاہوں،طلاق دیتاہوں،طلاق دیتاہوں"تو ان الفاظ سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں،بیوی حرمت مغلظہ کےساتھ شوہرپرحرام ہوگئی ہے ،عورت اپنی عدت (تین مکمل ماہواریاں اگرحمل نہ ہواوراگرحمل ہوتووضع حمل)گزارکرکسی اور جگہ نکاح کرنےمیں آزادہوگی،دوبارہ پہلےشوہرکےساتھ نکاح کرناجائزنہیں،الایہ کہ بیوی عدت گزرنےکےبعددوسری جگہ نکاح کرلےاورازدواجی تعلق قائم ہونےکےبعدوہ دوسراشوہراس کواپنی مرضی سےطلاق دےدےیااس کاانتقال ہوجاۓاورپھرمذکورہ خاتون عدت گزارلےتواس کے بعدپہلےشوہرسےدوبارہ نکاح کرناجائزہوگا۔
2:واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان تفریق ہو جانے کی صورت میں بچوں کی پرورش کے متعلق شریعت کا ضابطہ یہ ہے کہ: اگر بچہ ہو تو سات سال کی عمر تک، اور اگر بچی ہو تو نو سال کی عمر تک، ماں کو اس کی پرورش کا حق حاصل ہوتا ہے، اور اس مدت میں بچے کا خرچہ والد کے ذمہ ہوگا۔ مذکورہ مدت مکمل ہونے کے بعد باپ کو بچے کو اپنی تحویل میں لینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔تاہم، اگر ماں کسی ایسے شخص سے نکاح کر لے جو بچوں کے لئے غیر محرم(اجنبی) ہو، تو اس صورت میں اس کا حقِ پرورش ساقط ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی اور شرعی وجہ ایسی پائی جائے جو حقِ پرورش کو ختم کر دینے والی ہو، تو ماں کا یہ حق ختم ہو جائے گا۔اگر علیحدگی کی صورت میں عورت بچے کو اپنے پاس نہ رکھے اور شوہر کو دینا چاہے اور عورت کے علاوہ اور کوئی قریبی خاتون پرورش کرنے والی نہ ہو تو شوہر بچے کو لے سکتا ہے۔
3:طلاق دینےکےبعدشوہرکےذمےلازم ہےکہ وہ بیوی کامقرر کردہ حق مہر اس کواداکردےچاہےمہرمعجل ہویامؤجل۔
4:والدپراپنی حیثیت اوراستطاعت اوربچوں کی حاجت کے مطابق ان کےکھانےپینے،کپڑےاوررہائش وغیرہ کا خرچہ لازم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به: ج:1 ، ص:437، ط:دار الفكر بيروت)
وفیہ ایضاً:
"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين."
(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:542، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: ولا تقدر الحاضنة إلخ) اختلف في الحضانة، هل هي حق الحاضنة، أو حق الولد؟ فقيل بالأول فلا تجبر إذا امتنعت ورجحه غير واحدوعليه الفتوى. وقيل بالثاني فتجبر، واختاره الفقهاء الثلاثة أبو الليث والهندواني وخواهر زاده، وأيده في الفتح بما في كافي الحاكم الشهيد الذي هو جمع كلام محمد من مسألة الخلع المذكورة. قال: فأفاد: أي كلام الحاكم أن قول الفقهاء جواب ظاهر الرواية. قال في البحر: فالترجيح قد اختلف، والأولى الإفتاء بقول الفقهاء الثلاثة، لكن قيده في الظهيرية بأن لا يكون للصغير ذو رحم محرم، حينئذ تجبر الأم كي لا يضيع الولد؛ أما لو امتنعت الأم وكان له جدة رضيت بإمساكه دفع إليها لأن الحضانة كانت حقا للأم فصح إسقاطها حقها، وعزي هذا التفصيل للفقهاء الثلاثة. وعلله في المحيط بأنها لما أسقطت حقها بقي حق الولد، فصارت بمنزلة الميتة، أو المتزوجة فتكون الجدة أولى اهـ ما في البحر ملخصاقلت: ويؤخذ من هذا التوفيق بين القولين، وذلك أن ما في المحيط يدل على أن لكل من الحاضنة والمحضون حقا في الحضانة، ومثله ما قدمناه عن المفتي أبي السعود؛ فقول من قال " إنها حق الحاضنة فلا تجبر " محمول على ما إذا لم تتعين لها، واقتصر على أنها حقها لأن المحضون حينئذ لا يضيع حقه لوجود من يحضنه غيرها، ومن قال " إنها حق المحضون فتجبر " محمول على ما إذا تعينت واقتصر على أنها حقه لعدم من يحضنه غيرها. والدليل على ذلك أيضا ما مر عن الظهيرية حيث عزي إلى الفقهاء الثلاثة القائلين بالجبر أنها تجبر عندهم إذا لم يوجد غيرها لا إذا وجد."
(کتاب الطلاق،باب الحضانة،ج:3،ص: 559۔560،ط:سعید)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"لا خلاف لأحد أن تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه قال بعضهم يصح وهو الصحيح وهذا؛ لأن الغاية معلومة في نفسها وهو الطلاق أو الموت ألا يرى أن تأجيل البعض صحيح، وإن لم ينصا على غاية معلومة، كذا في المحيط. وبالطلاق الرجعي يتعجل المؤجل ولو راجعها لا يتأجل، كذا أفتى الإمام الأستاذ، كذا في الخلاصة."
(الباب السابع في المهر،الفصل الحادي عشر في منع المرأة نفسها بمهرها والتأجيل في المهر،ج:1،ص: 318،دارالفکربیروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان مقدار الواجب من هذه النفقة فنفقة الأقارب مقدرة بالكفاية بلا خلاف؛ لأنها تجب للحاجة فتتقدر بقدر الحاجة وكل من وجبت عليه نفقة غيره يجب عليه له المأكل والمشرب والملبس والسكنى والرضاع إن كان رضيعا؛ لأن وجوبها للكفاية والكفاية تتعلق بهذه الأشياء فإن كان للمنفق عليه خادم يحتاج إلى خدمته تفرض له أيضا؛ لأن ذلك من جملة الكفاية."
(کتاب النفقة،فصل في بيان مقدار الواجب من هذه النفقة،ج:4،ص: 38،ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100944
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن