بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاقوں اور عدت کے احکام


سوال

ستمبرمیں میری شادی ہوئی ،میرے شوہر نے غصے میں آکر اپنی بہن کے کہنے پر مجھے  کمرے میں آ کر کہا "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور میری طرف سےتم آزاد ہو پھر کہا" میں  ہوش و حواس میں ہوں اور تمہیں طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں،تینوں طلاقیں ایک ساتھ دیں۔

سوال  یہ ہے کہ اس سے مجھ پر ایک طلاق واقع ہوئی یا تین طلاقیں واقع ہوئیں؟اور ایک یاتین طلاق واقع ہو جانے کے بعد  آگے کا لائحہ عمل یا عدت کے متعلق بھی بتایا جائے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگرواقعتاًصحیح ہےکہ اس کےشوہرنےغصہ میں آکرطلاق کےمذکورہ الفاظ کہےہیں تواس سے  سائلہ پر مجموعی طورپرتینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، نکاح  ختم ہوگیا ہے بیوی شوہرپر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے،تین سےزائد طلاقیں لغوواقع ہوئیں، شوہر کےلیے مطلقہ  بیوی سے رجوع کرناجائزنہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، پس سائلہ کی عدت طلاق کےبعد شروع ہوگئی تھی  اورسائلہ عدت (مکمل  تین ماہواریاں، اگر حمل نہ ہو ، اورحمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک کاعرصہ)اگرگزار لیاہےتو دوسرے شخص سےنکاح کرسکتی ہے۔

نیزملحوظ رہےکہ تین طلاقیں اکٹھی دی جائیں یاعلیحدہ علیحدہ وقت میں دی جائیں،قرآن کریم احادیث مبارکہ ،اقوالِ صحابہ کرام اورچاروں ائمہ کرام کےنزدیک تینوں طلاقیں واقع ہوتی ہیں، اکٹھی دی گئی تین طلاقوں کو ایک قراردیناگمراہی ہے۔

 موطأ  امام الك میں ہے:

"عن مالك؛ أنه بلغه، أن رجلا قال لابن عباس: إني طلقت امرأتي مائة ، فماذا ترى؟ قال ابن عباس: طلقت ثلاثا، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله لعبا هزوا."

(‌‌كتاب الطلاق، باب ما جاء فی البتة ،ج:1،ص:605، ط:مؤسسة الرسالة )

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

"وفي الظهيرية: ومتى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق، وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء، كقوله يا مطلقة أنت طالق... وفي الحاوي: ولو قال ترا يك طلاق يك طلاق يك طلاق! بغير العطف وهي مدخول بها تقع ثلاث تطليقات.

"(كتاب الطلاق، الفصل الرابع فيما يرجع إلى صريح الطلاق، نوع آخر: في تكرار الطلاق وإيقاع العدد في المدخولة وغير المدخولة، ج: 3، ص: 212،211، ط: دار احياء التراث العربي)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإن كانت معصيةً."(سورة البقرة، آیۃ:230)

( ‌‌مطلب :الدهن المتنجس يجوز الإنتفاع به بغير الأكل ويجوز بيعه بشرط بيان عيبه، ج، 1، ص، 469،  ط: العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"أن ابن عباس قال:كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم۔وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."

(کتاب الطلاق، ص: 233، ج:3، ط: سعید)

 فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامة، لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، ویدخل بها، ثم یطلقها او یموت عنها."

(کتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط:دار الفكر بيروت) 

فتاوی شامی میں ہے:

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح  ۔۔۔ (لا) يلحق البائن (البائن)

(کتاب الطلاق، ‌‌باب الكنايات، ج:3، ص: 306،ط:سعید)

تحفۃالفقہاء میں ہے:

"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن ."

( كتاب الطلاق، باب العدة،ج:2، ص:244، ط: دار الكتب العلمية)

بدائع  الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ... سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:دار الکتب العلمیۃ)

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612100106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں