
میرے شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران ایک مرتبہ مجھے کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"، اس كےایك گھنٹے بعد رجوع كرلیا تھا، الفاظ یہ تھے "میں رجوع كرتا ہوں"۔ پھر ایک سے ڈیڑھ ماہ بعد انہوں نے تین مرتبہ یہ کیا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ واضح رہے کہ وہ اہلِ حدیث مسلک سے ہیں۔ پہلی دفعہ انہوں نے کہا تھا تو کہنے لگے تھے کہ یہ میں نے جنون کی کیفیت میں دی ، جب کہ وہ ہوش میں تھے۔ جب دوسری دفعہ تین مرتبہ دی تو میری والدہ اور ساس کو فون کرکے کہا کہ میں نے طلاق دی ہے لیکن یہ دو ہوگئی ہیں ، ایک باقی ہے ۔میں حاملہ ہوں، اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ میں حنفی خاتون ہوں کیا مجھے طلاق ہوگئی ہے؟ اگر ہوگئی ہے تو عدت کے احکام کیا ہیں؟
وضاحت :- میرا شوہر یہ تو اقرار کر رہا ہے کہ میں نے تین مرتبہ مذکورہ الفاظ کہے ہیں، لیکن وہ کہتا ہے دو ہوئی ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جب بیوی كو جھگڑے كے دوران پہلی بار ان الفاظ سے طلاق دی كہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اس سے ایك طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی، پھر ایك گھنٹے بعد رجوع كرنے سے بدستور نكاح برقرار رہا۔ البتہ جب دوسرے جھگڑے میں شوہر نے تین بار ان الفاظ سے طلاق دی كہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اس سے مجموعی طور پر سائلہ پر تین طلاق واقع ہوگئیں، سائلہ اپنےشوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، فوری علیحدگی اختیار كرنا لازم ہے، تین طلا ق کے بعد ساتھ رہنا ناجائز و حرام ہوگا، نیز اب شوہر کے لیے رجوع یا تجدیدِ نکاح کی اجازت نہیں۔
نیز جب شوہر نے پہلی طلاق جھگڑے كے دوران ہوش و حواس میں دی ہے تو اب یہ كہنا كہ "میں نے جنون كی كیفیت میں دی ہے" معتبر نہیں ہے۔ نیز اس كے بعد بھی شوہر تین طلاقیں مستقل دے چكا ہے، تو بیوی حرام ہو چكی ہے۔ قرآن و حدیث، جمہور صحابہ كرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین بالخصوص امام ابو حنیفہ، امام مالك، امام شافعی، امام احمد بن حمبل رحمہم اللہ سب كے نزدیك ہرحال میں تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔ تین طلاقوں كے بعد بیوی حرمتِ مغلظہ كے ساتھ شوہر پر حرام ہوجاتی ہے۔ اس متفقہ موقف میں سوائے روافض اور اہلِ حدیث كے كسی كا اختلاف نہیں۔ لہذا سائلہ پر لازم ہے كہ ہرحال میں سابقہ شوہر سے علیحدہ رہے، اس كے ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور تین طلاق دے کر انہیں ایك شمار كرنا غلط ہے۔
لہذا سائلہ پر حاملہ ہونے كی وجہ سے عدت وضعِ حمل یعنی بچے كی ولادت ہے، بچے کی ولادت کے بعد سائلہ كسی دوسری جگہ نكاح كرنے میں آزاد ہوگی۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."
ترجمہ: ’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا اور دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے جیساکہ پہلے شوہر نے چکھی ہے۔‘‘
( كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، ج: 7، ص: 117، ط: دار التأصیل)
خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فیصلہ "مصنف ابن أبي شيبة"میں مذکور ہے:
"حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر، عن شقيق بن أبي عبد الله، عن أنس، قال: «كان عمر إذا أتي برجل قد طلق امرأته ثلاثا في مجلس أوجعه ضربا وفرق بينهما."
(كتاب الطلاق، من كره أن يطلق الرجل امرأته ثلاثا في مقعد واحد، وأجاز ذلك عليه، ج: 4، ص:61، ط: دار التاج)
خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا فیصلہ "مصنف ابن أبي شيبة"میں مذکور ہے:
"حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع، والفضل بن دكين، عن جعفر بن برقان، عن معاوية بن أبي يحيى قال: جاء رجل إلى عثمان فقال: إني طلقت امرأتي مائة قال: «ثلاث تحرمها عليك، وسبعة وتسعون عدوان."
(كتاب الطلاق،في الرجل يطلق امرأته مائة، أو ألفا في قول واحد، ج: 4، ص: 62، ط: دار التاج)
خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ "مصنف عبد الرزاق"میں مذکور ہے:
"عن إبراهيم بن محمد، عن شريك بن أبي نمر قال: جاء رجل إلى علي، فقال: إني طلقت امرأتي عدد العرفج قال: «تأخذ من العرفج ثلاثا، وتدع سائره». قال إبراهيم: وأخبرني أبو الحويرث، عن عثمان بن عفان مثل ذلك."
(كتاب الطلاق، باب المطلق ثلاثا، ج: 6، ص: 418، ط: دار التأصیل)
أحكام الطلاق لأحمد زومان میں ہے:
"وقال ابن بطال: اتفق أئمة الفتوى على لزوم إيقاع طلاق الثلاث في كلمة واحدة، فإنَّ ذلك عندهم مخالف للسنة، وهو قول جمهور السلف، والخلاف في ذلك شذوذ، وإنَّما تعلق به أهل البدع، ومن لا يلتفت إليه لشذوذه(2).
وقال ابن الملقن: اتفق أئمة الفتوى على لزوم إيقاع طلاق الثلاث في كلمة واحدة وهو قول جمهور السلف ومن خالف فهو شاذ مخالف لأهل السنة(3).
وقال العيني: قالوا: من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة، وإنَّما تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التي لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة(4).
وقال ابن حجر الهيثمي: وقوعهن معلقة كانت أو منجزة فلا خلاف فيه يعتد به. وقال الشريني: وقوع الثلاث عند جمعهن، وعليه اقتصر الأئمة، وحكى عن الحجاج بن أرطاة وطائفة من الشيعة والظاهرية أنَّه لا يقع منها إلا واحدة، واختاره من المتأخرين من لا يعبأ به فأفتى به واقتدى به من أضله الله - تعالى -(1) كذا قال رحمه الله والكل مجتهد مأجور وإن لم يوفق للصواب.
وقال الحافظ ابن حجر: الإجماع الذي انعقد في عهد عمر رضي الله عنه على ذلك ولا يحفظ أنَّ أحدًا في عهد عمر رضي الله عنه خالفه في واحدة منهما … فالمخالف بعد هذا الإجماع منابذ له والجمهور على عدم اعتبار من أحدث الاختلاف بعد الاتفاق، والله أعلم."
(الباب التاسع، الفصل الثنی، ص: 664، دار الصمیعي)
امام شافعی کی مشہور کتاب " كتاب الأم"میں ہے:
"و القراٰن يدل-و الله اعلم- على أن من طلق زوجةً له دخل بها أو لم يدخل بها ثلاثاً لم تحل له حتى تنكح زوج غيره."
(كتاب النفقات، طلاق التی لم یدخل بھا، ج: 6، ص: 517، ط: دار الإحیاء التراث العربی)
فقہ حنبلی كی معروف كتاب "الإنصاف" میں ہے:
"قوله (وَ إِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فِي طُهْرٍ لَمْ يُصِبْهَا فِيهِ: كُرِهَ، وَفِي تَحْرِيمه روایتان)
وأطلقهما في الهداية، والمستوعب، والهادي، والكافي.
إحداهما: يحرم. وهو المذهب. نص عليه في رواية ابن هانيء وأبي داود، والمروذي، وأبي بكر بن صدقة، وأبى الحارث. وعليه جماهير الأصحاب.
وجزم به في العمدة، والوجيز، ومنتخب الأدمى البغدادي، وغيرهم."
(كتاب الطلاق، باب طلاق السنة و البدعة، ج: 8، ص: 451، ط: دار الإحیاء التراث العربی)
فقہ مالكی كی مشہور كتاب "منح الجلیل" میں ہے:
"ونجزت الثلاث في شر الطلاق ونحوه، وفي: طالق ثلاثا للسنة إن دخل بها، وإلا فواحدة: كخيره أو واحدة عظيمة، أو قبيحة، أو كالقصر، وثلاثا للبدعة، أو بعضهن للبدعة، وبعضهن للسنة، فثلاث فيهما."
(كتاب الطلاق، فصل في شروط طلاق السنة وما يتعلق به، ج: 2، ص: 28، ط: دار الكتب العلمیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى....وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."
(كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج: 3، ص: 232، ط: حلبی)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما حكم طلاق البدعة فهو أنه واقع عند عامة العلماء. وقال بعض الناس: إنه لا يقع وهو مذهب الشيعة أيضا.
(ولنا) ما روي عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه أن بعض آبائه طلق امرأته ألفا فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال صلى الله عليه وسلم «بانت بالثلاث في معصية وتسعمائة وسبعة وتسعون فيما لا يملك.
وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه قال إن أحدكم يركب الأحموقة فيطلق امرأته ألفا ثم يأتي فيقول: " يا ابن عباس يا ابن عباس وإن الله تعالى قال: {ومن يتق الله يجعل له مخرجا} [الطلاق: 2] وإنك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجا بانت امرأتك وعصيت ربك وروينا عن عمر رضي الله عنه أنه كان لا يؤتى برجل قد طلق امرأته ثلاثا إلا أوجعه ضربا وأجاز ذلك عليه وكانت قضاياه بمحضر من الصحابة رضي الله عنهم أجمعين فيكون إجماعا منهم على ذلك."
(كتاب الطلاق، فصل في حكم طلاق البدعة، ج: 3، ص: 96، ط: مطبعة جمالیة)
و فیہ ایضاً:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق ،فصل فی حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: دار الكتب العلمیة)
وفیہ ایضاً:
"وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل، وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة، والأصل فيه قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] أي: انقضاء أجلهن أن يضعن حملهن."
(کتاب الطلاق،فصل في عدة الحبل، ج: 3، ص: 192، ط:دار الكتب العلمیة)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100838
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن