بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے بازار جانے پر تین طلاقوں کو معلق کرنا


سوال

شوہر اور بیوی کے درمیان گفتگو کچھ یوں ہوئی:شوہر نے بیوی سے کہا: "اس بازار (یعنی گھر کے پاس ایک معیّن بازار ہے) نہیں جاؤ گی۔"  بیوی نے کہا: "جاؤں گی!"  شوہر نے کہا: "جاؤ گی؟"  بیوی نے پھر جواب دیا: "جاؤں گی!"  اس پر شوہر نے کہا: "جاؤ گی تو تین شرطوں کے ساتھ طلاق۔

اب سوال یہ ہےکہ مذکورہ الفاظ سے طلاق کا کیاحکم ہے؟اور اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟

وضاحت:

بیوی بازار گئی تھی، جب بازار سے واپس آئی تو شوہر نے آئندہ جانے سے منع کردیا،لیکن بیوی آئندہ جانے پر بھی مصر تھی ،جس کی وجہ سے شوہر بالآخر کہا کہ جاؤگی تو تین شرطوں کے ساتھ طلاق،اور شوہر کا ان الفاظ سے مستقل طور   بیوی کو بازار جانے سے منع کرنا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی کے درمیان  ہونے والی گفتگو کے دوران شوہر نے گھر کے پاس والے بازار جانے سے منع کیا،بیوی کے اصرار پر جب شوہر نے یہ جملہ کہا کہ :"جاؤ گی تو تین شرطوں کے ساتھ طلاق" تو اس  سے مذکورہ بازار جانے کےساتھ تین طلاقیں معلق ہوگئی ہیں،پس بیوی جب کبھی مذکورہ بازار جائے گی، تو اس پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی،نکاح ختم ہوجائے گا،بیوی شوہر پر حرمت  مغلظہ  کے ساتھ حرام ہوجائے گی،جس کے بعد شوہر کے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہوگا۔

تین طلاق سے بچنے کاطریقہ یہ ہے کہ یا تو بیوی تاحیات مذکورہ بازار نہ جائے،یا شوہر بیوی کو ایک طلاقِ رجعی یا بائنہ  دے دے، اور  عدت مکمل ہوجانے کے بعد چونکہ نکاح ٹوٹ جائے گا، پھر عدت مکمل ہوجانے کے بعد بیوی مذکورہ بازار چلی جائے، اس طرح طلاق والی شرط پوری ہو جائے گی، مگر چونکہ عدت ختم ہونے کے بعد وہ شوہر کی بیوی نہیں رہی، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوگی۔اس کے بعد میاں بیوی گواہوں کی موجودگی میں نیا مہر مقرر کرکےتجدید نکاح کرلیں، تجدید نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار  ہوگا، اس کے بعد اگر بیوی اس بازار گئی تو اس تعلیق کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج:1، ص:420، ط: دار الفکر)

وفیه أیضا:

"ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ‌،الفصل الأول في ألفاظ الشرط، ج:1، ص:415، ط: دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها."

(کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج:3، ص:355، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100846

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں