بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین سے چھ مرتبہ میں اپنے ہوش وحواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

 میری پھوپھی  کی شادی کو آٹھ سال چار ماہ ہوچکے ہیں،لیکن اولاد کی نعمت سےمحروم ہیں،کچھ دن پہلے گھریلو ناچاقی کےباعث ان کے شوہر نے رات تقریبا ایک بجے ان کو طلاق دے دی،جس میں اس نے با ہوش وحواس اپنی بیوی کو تین سے چھ مرتبہ طلاق کے الفاظ دہراۓ،اور یہ الفاظ کہے"میں اپنے ہوش وحواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔اس وقت گھر میں ان دونو ں کے علاوہ کوئی تیسرا شخص موجود نہ تھا،اور نہ ہی لڑکے نے اب تک تحریری طور پر طلاق بھیجی ہے۔میری پھوپھی نے ہمیں فون کیا،اور ہم سب گھر والے اپنی برادری کے دو گواہان کے ساتھ جاکر اپنی پھوپھی کو خالی ہاتھ بغیر کسی سامان کے اپنے گھر لے آۓ۔

1-براۓ مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ کیا طلاق واقع ہوچکی ہے؟

2،3-اگر طلاق واقع ہوچکی ہے،تو لڑکی کے جہیز کی برآمدگی اور لڑکی کے نان نفقہ کے متعلق شرعی احکامات کیا ہیں؟

4-لڑکی کو رشتہ داروں کی طرف سے جو تحفے تحائف ملے ہیں،ان پر لڑکی کا ہی حق ہوتا ہے یا نہیں؟

5-طلاق دینے کے وقت تک لڑکے نے نکاح کے وقت مقرر کیا گیا حق مہر ادا نہیں کیا تھا،جسکی مالیت مبلغ 52 ہزار روپے ہے،تو حق مہر کی بھی لڑکی حقدار ہوگی یا نہیں؟

6-لڑکے کے ذمے سسرالیوں کا کچھ قرض بھی واجب الادا ہے،اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1-صورت مسئولہ میں اگر واقعتا سائل کی پھوپھی کو شوہر نے تین سے چھ مرتبہ ان الفاظ میں طلاق دی کہ"میں اپنے ہوش وحواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"،تو اس سے سائل کی پھوپھی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اور وہ حرمت مغلظہ کے ساتھ اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہے،نکاح ختم ہوچکا ہے، اب رجوع جائز نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،بلکہ بیوی عدت طلاق(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو،اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

2-جہیز کا سامان عورت کی ملکیت ہوتا ہے،طلاق کے بعد عورت کو اپنے جہیز کا سامان واپس لینے کا پورا حق حاصل ہے۔

3-طلاق  کے بعد عدت مکمل ہونے تک مطلقہ بیوی کو رہائش فراہم  کرنا  اور  اس کے نفقہ کا انتظام کرنا شوہر پر لازم ہوتا ہے، پس  طلاق  کے بعد اگر شوہر مطلقہ  بیوی کو رہائش  فراہم نہ کرتے ہوئے اسے میکے بھیج دے، تو اس صورت میں بھی نفقہ کی فراہمی  شوہر پر لازم ہوتی ہے، تاہم طلاق کے بعد اگر مطلقہ بیوی شوہر کی جانب سے فراہم کردہ رہائش گاہ سے اپنی مرضی سے چلی جائے، جس میں شوہر کی رضامندی نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ نفقہ کی حق دار نہیں ہوتی، یہاں تک کہ شوہر کی جانب سے فراہم کردہ رہائش گاہ واپس آجائے۔

4-لڑکی کو جو تحفے تحائف ملے ہیں،چاہے اپنے رشتہ داروں کی طرف سے ہوں یا کسی اور کی طرف سے،وہ بھی لڑکی کی ہی ملکیت ہے۔

5-شوہر نے اب تک جو مہر کی ادائیگی نہیں کی ہے،تو وہ بھی شوہر کے ذمے ادا کرنا لازم ہے،بشرطیکہ بیوی نے معاف نہ کیا ہو۔

6-اس کے علاوہ لڑکے پر جو سسرالیوں قرضہ ہے،وہ بھی لڑکے کے ذمے ادا کرنا لازم ہے۔

سننِ ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه."

ترجمہ:"مومن کا نفس (جان) اُس کے قرض کی وجہ سے معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ اُس کا قرض ادا کر دیا جائے۔ "

(أبواب الجنائز، باب ما جاء عن النبي صلي الله عليه و سلم أنه قال: نفس المؤمن معلقة بدينه حتي يقضي عنه، ج:2، ص:375، ط:دار الغرب الإسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق،  فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."

(کتاب النکاح، باب المہر، ج:3، ص:158، ط:ایچ ایم سعید)

وفیه أیضا:

"(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة) 

(قوله وتجب لمطلقة الرجعي والبائن) كان عليه إبدال المطلقة بالمعتدة؛ لأن النفقة تابعة للعدة، وقيد بالرجعي والبائن احترازا عما لو أعتق أم ولده فلا نفقة لها في العدة كما في كافي الحاكم، وعما لو كان النكاح فاسدا ففي البحر لو تزوجت معتدة البائن وفرق بعد الدخول فلا نفقة على الثاني لفساد نكاحه ولا على الأول إن خرجت من بيته لنشوزها. وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح.

وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود، وأطلق فشمل الحامل وغيرها والبائن بثلاث أو أقل كما في الخانية."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج3، ص609، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء."

 (کتاب النکاح، الباب السابع فی المہر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج:1، ص:303، ط:دارالفکر بیروت)

وفیه أیضا:

"وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها."

(كتاب الهبة، الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها، ج:4، ص:374، ط:دارالفکر بیروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100876

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں