
میں 4 سال سے شادی شدہ ہوں اور میرا ایک بچہ ہے جو ایک سال کا ہے۔ میرے شوہر نے مجھے تقریباً 3 سال پہلے ایک بار طلاق دی تھی،طلاق کے الفاظ یہ ہے کہ میں نے تجھےطلاق دی، لیکن چند دنوں میں ہم نے رجوع کر لیا۔ ڈیڑھ سال بعد جب ہمارا بچہ پیدا ہوا اور میں حیض میں تھی تو اُس نے دوبارہ طلاق دے دی،طلاق کے الفاظ یہ ہے کہ میں نے تجھے طلاق دی، مگر ہم نے چند دنوں میں پھر رجوع کر لیا۔ اب اُس نے تیسری بار طلاق دی ہے جو چند دن پہلے ہوئی ہے، اور اُس نے فون پر میرے والد کو گواہ بنایا کہ "دو طلاقیں پہلے ہو چکی ہیں، اب میں اُسے آخری بار طلاق دے رہا ہوں"،اب اُس کا کہنا ہے کہ دوسری طلاق حیض کے ایام میں دی گئی تھی، اس لیے وہ شمار نہیں ہوتی، اور وہ اب مجھے رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن میرے والد کہہ رہے ہیں کہ اُس نے مجھے گواہ بنایا تھا۔ مزید یہ کہ پہلی اور تیسری طلاق فون پر دی گئی تھیں، صرف دوسری طلاق بالمشافہ (سامنے) دی گئی تھی، جو حیض کے دوران تھی۔ تیسری طلاق کے وقت وہ ذہنی دباؤ اور غصے کے مسائل سے گزر رہا تھا اور ایک ماہرِ نفسیات سے علاج بھی کروا رہا تھا۔
تو کیا یہ طلاق شمار ہوگی؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں، کیا ہم اب بھی میاں بیوی ہیں؟
واضح رہے کہ ماہواری کے دنوں میں طلاق دینا شرعا ممنوع ہے،تاہم اگر کسی نے ان دنوں میں طلاق دے دی،تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور طلاق دینے والا گناہ گار بھی ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کےشوہر کا یہ کہنا کہ:"دوسری طلاق حیض کے ایام میں دی گئی تھی،اس لیے وہ طلاق شمار نہیں ہوتی" شرعاً معتبر نہیں ہوگا،پس مسئولہ صورت میں سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،نکاح ختم ہوچکا ہے،سائلہ شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے۔شوہر کے لیے مطلقہ بیوی (سائلہ)سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے۔سائلہ عدت طلاق (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
فتح القدیرمیں ہے:
"(و إذا طلق الرجل امرأته في حالة الحيض وقع الطلاق)."
(كتاب الطلاق، بابطلاق السنة، ج: 3، ص: 480، ط:دار الفكر بيروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"(و البدعي) من حيث الوقت أن يطلق المدخول بها وهي من ذوات الأقراء في حالة الحيض أو في طهر جامعها فيه وكان الطلاق واقعًا."
(كتاب الطلاق، البابالسادس، ج: 1، ص: 349، دار الفکر بيروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح ، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله : " أنت طالق " أو " أنت الطلاق ، أو طلقتك ، أو أنت مطلقة " مشددا۔"
(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 161،ط: سعید)
وفیہ ایضا:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] "
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج:3، ص: 187، ط: دار الکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق باب الرجعة، ج :1، ص:473، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101959
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن