
میاں بیوی میں گفتگو بذریعہ وٹس ایپ ہورہی تھی، بیوی نے شوہر پر الزام لگانے کا اشارہ دیا توشوہر نے میسج لکھا کہ اب تم نے الزام لگایا تو تین لفظ سنوگی۔ دوسرا میسج غالبا چپ رہنے یا غصہ کا تھا لیکن نارمل میسج تھا، پھر یہ میسج ڈلیٹ کر دیا بیوی نے ابھی میسج نہیں پڑھے تھے۔ شوہر کو علم تھا کہ مستقبل کی دھمکی سے طلاق نہیں ہوتی۔ دل میں وسوسہ پیدا ہوا اور چیٹ جیپٹی سے سوال پوچھا تو چیٹ جی پی ٹی نے جواب دیا کہ اگر شوہر نے الزام لگادیا توطلاق واقع ہو جائے گی — اور وہ بھی تین طلاقِ مغلّظہ کیونکہ شوہر نے طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کیا تھا، اور شرط پوری ہوتے ہی طلاق نافذ ہوتی ہے۔
کیا طلاق واقع ہوگئی؟
واضح رہے کہ فتوی دینا ایک بہت بڑی شرعی ذمہ داری اور انتہائی نازک وحساس کام ہے، جس میں سائل کاسوال سمجھنا،اس کا مقصد پہچاننا اور اور اس کے زمانے، مکان اور عرف کی واقفیت کے ساتھ ساتھ، ملتی جلتی جزئیات میں امتیاز اور جواب میں مفتٰی بہٖ قول اختیار کرنا، ایسے بہت سے امور ہیں جن کا ادراک ممارست اور مسلسل تجربے کا متقاضی ہے، اور ان امور کی انجام دہی کسی مستند دارالافتاء سے وابستہ مفتی ہی کرسکتاہے، اس لیے کسی مفتی کے علاوہ موجودہ زمانے کی نئی ٹیکنالوجی جیسے چیٹ جی پی ٹی کے ذریعہ سے شرعی مسئلہ نہیں معلوم کرنا چاہیے۔
باقی صورت مسئولہ میں ذکر کیے گئے الفاظ ”اب تم نے الزام لگایا تو تین لفظ سنوگی“ طلاق کے الفاظ نہیں ، بلکہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے لیے ہیں، اور مستقبل (آئندہ) کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے۔
العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."
(کتاب الطلاق، ص:38، ج:1، ط:دار المعرفة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101021
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن