بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین گھروں کے لیے استعمال ہونے والے موٹر کا بل دو گھروں سے وصول کرنا


سوال

 میں ایک مکان میں کرایہ دار ہوں، یہ مکان گراؤنڈ پلس دو منزلہ (Ground + 2 Floors) ہے، گراؤنڈ فلور پر میں ( کرایہ دار) رہتا ہوں، فرسٹ فلور پر مکان مالک رہتے ہیں، سیکنڈ فلور پر مکان  مالک کا بیٹاعلیحدہ رہائش پذیر ہے، ہم تینوں کا الگ الگ بجلی اور گیس کا میٹر لگا ہوا ہے، اور ان کے بلز علیحدہ آتے ہیں، سیورج (نکاسی آب) کا کوئی الگ میٹر موجو دنہیں ہے، لیکن جو بل آتا ہے، اس پر "Ground Plus" یعنی پورے مکان کا ذکر ہوتا ہے جس سے واضح ہے کہ یہ بل پورے گھر کے استعمال کی بنیاد پر آتا ہے۔
پانی کے لیے مکان میں دو موٹریں استعمال ہورہی ہیں:
پہلی موٹر : جو باہر کی لائن سے پانی زیر زمین ٹینک میں کھینچتی ہے۔
دوسری موٹر: جو زیر زمین ٹینک سے پانی اوور ہیڈ ٹینک میں پمپ کرتی ہے۔
یہ دونوں موٹریں روزانہ تقریباً 8سے 9 گھنٹے چلتی ہیں، اور ان کے بجلی کے اخراجات دو افراد (مالک اور میں بطورِ کرایہ دار) کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں، حالاں کہ ان موٹروں سے فراہم کردہ پانی تینوں خاندان استعمال کرتے ہیں۔
جب میں نے تین سال پہلے کرایہ داری کامعاہدہ کیا تھا ، اس وقت ان باتوں کی وضاحت  نہیں کی گئی تھی، اور نہ ہی یہ اندازہ تھا کہ پانی کی موٹر روزانہ 8 سے 10 گھنٹے تک چلے گی، اس وقت یہ بھی معلوم نہ تھا کہ موٹر کے بجلی کے بل کی رقم بعض اوقات اتنی زیادہ ہوجائے گی کہ وہ کرایے کے برابر یا اس کے قریب پہنچ جائے گی، بعد میں جب معاہدہ تجدید ہوا تو میں نے کئی بار گزارش کی کہ پانی، سیورج اور موٹروں کے اخراجات چوں کہ تینوں افراد استعمال کررہے ہیں، اس لیے یہ تین حصوں میں تقسیم کیے جائیں ، لیکن میری بات قبول نہیں کی گئی۔
مزید یہ کہ ان موٹروں ، اور پائپ لائن وغیرہ سے متعلق دیگر اخراجات  مثلاً موٹر کی مرمت ، پائپ لائن کی صفائی  یا خرابی ، والوز ، سوئچز ، اور دیگر آلات کی مرمت ، یہ سب اخراجات بھی صرف دو افراد پر ڈالے جاتے ہیں، حالاں کہ استعمال تینوں کررہے ہیں۔
سوال یہ ہے :
کیا شریعت کی رو سے یہ درست ہے کہ پانی، سیوریج اور دیگر اخراجات صرف دو افراد پر تقسیم ہوں؟ جبکہ سہولیات سے تینوں خاندان فائدہ اٹھارہے ہیں۔
کیا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے کہ ایسے تمام مشترکہ اخراجات جن سے تینوں فائدہ اٹھارہے ہوں، تین حصوں میں تقسیم کیے جائیں؟
اگر ابتدائی معاہدے میں یہ بات واضح نہ کی گئی ہو،تو کیا بعد میں عدل و انصاف کے اصول پر اخراجات کی تقسیم پر نظرِ ثانی کی جاسکتی ہے؟
اگر کوئی فرد مستقل طور پر مکان کے کسی علیحدہ حصے میں رہائش پذیر ہو، اور مشترکہ سہولیات سے فائدہ اٹھا رہا ہو، تو کیا وہ شرعاً ان اخراجات میں شریک ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق اگر واقعۃً پانی کی موٹر  سے تین افراد (مالک مکان، مالک مکان کا بیٹا جو الگ گھر میں رہتا ہے، اور سائل) فائدہ اٹھاتے ہیں  تو سائل کاان موٹر کی بجلی کے بل ودیگر اخراجات  کو تین حصوں  میں تقسیم کرنے کا مطالبہ شرعاً جائز ہے اور سائل پر شرعاً صرف ایک تہائی بل کی ادائیگی لازم ہے، مالک مکان کے لیے جائز نہیں ہے کہ سائل سے اس کی رضامندی کے بغیر ایک تہائی سے زیادہ بل وصول کرے، لہذا اس سے اجتناب کرے۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن داود بن أبي هند عن سعيد بن المسيب قال: يأكل الوالد من مال ولده ما شاء، ولا يأكل الولد من مال والده ‌إلا ‌بطيب ‌نفسه."

(‌‌[399] في الرجل يأخذ من مال ولده، ج: 12، ص: 438، ط: دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض - السعودية)

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا يحيى عن هشام، وابن نمير حدثنا هشام، حدثني أبي عن سعيد بن زيد بن عمرو عن النبي - صلى الله عليه وسلم -، قال ابن نمير: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "من ‌أخذ ‌شبرا من الأرض ظلما طوقه يوم القيامة إلى سبع أرضين"، قال ابن نمير: "من سبع أرضين"

(مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل رضي الله عنه، ج: 2، ص: 291، ط: دار الحدیث قاهرة)

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا حجاج، حدثنا ليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، أن سالم بن عبد الله أخبره، أن عبد الله بن عمر أخبره، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " المسلم أخو المسلم، ‌لا ‌يظلمه ولا يسلمه، من كان في حاجة أخيه، كان الله عز وجل في حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة، فرج الله عز وجل عنه بها كربة من كرب يوم القيامة، ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة "

(‌‌مسند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، ج: 9، ص: 463، ر: 5646، ط: مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں