
کیا کسی کمپنی کا یہ اصول درست ہے کہ اگر ملازم مہینے میں تین مرتبہ دیر سے آئے تو اُس کی ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جائے؟ جب کہ ملازم نے نوکری کے لیے اس شرط پر دستخط بھی کیے تھے،یہ شرط شرعی لحاظ سے جائز ہے یا نہیں ؟برائے کرم ملازمین کو پابند بنانے کے لیے ہمارے لئے کوئی منظم ضابطہ بنائے ، دیگرکون کون سی جائز ممکنہ تدابیر اختیار کرنی چاہییں ؟
واضح رہے کہ ملازمین شرعی طور پر اجیرِ خاص ہوتے ہیں، اور ان کی اجرت کام یا وقت کے عوض مقرر کی جاتی ہے۔ شریعت میں یہ اصول ہے کہ ملازم جتنا وقت یا جتنی محنت ادارے کو دے گا، اتنی ہی اجرت کا مستحق ہوگا۔ کسی بھی ادارے یا کمپنی کا یہ ضابطہ بنانا کہ اگر ملازم مہینے میں تین مرتبہ دیر سے آئے تو اس کی ایک دن کی مکمل تنخواہ کاٹ لی جائے، خواہ اس شرط پر ملازم نے دستخط بھی کیے ہوں، شرعاً جائز نہیں۔ اس طرح پورے دن کی تنخواہ کاٹنا مالی جرمانہ ہے، جو کہ ناجائز ہے، اور معاہدے میں ایسی شرط رکھنا بھی درست نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں، کمپنی صرف اس تاخیر یا غیر حاضری کے بقدر ہی تنخواہ کاٹ سکتی ہے جتنا وقت ملازم نے کام نہیں کیا، مکمل دن کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں۔ اگر ادارہ نظم و ضبط کے لیے اصول بنانا چاہے تو درج ذیل جائز تدابیر اختیار کرسکتا ہے: (1) سالانہ بونس (اگر وہ تنخواہ کا حصہ نہ ہو) سے کٹوتی کرنا، 2) سالانہ انکریمنٹ میں کمی کرنا، (3) بار بار تاخیر پر ملازمت سے برطرف کرنا، (4) وقت کی پابندی کرنے والوں کے لیے انعام مقرر کرنا،(5) اسی طرح سالانہ یا ماہانہ استحقاقی چھٹیوں (جو کمپنی کی طرف سے تبرع ہیں) میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
"أن الأجير الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة ."
(كتاب الإجارۃ ، باب إجارۃ العبد ج: 9 ص: 140 ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل."
(،کتاب النکاح،باب المہر ،مطلب أنفق على معتدة الغير،ج3 ،ص156،ط:ايچ ايم سعيد)
شرح المجلۃ میں ہے:
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي".
(ج1،ص264، مادۃ: 97، ط؛:رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101912
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن