
میری بڑی بہن میرے پاس کچھ نہ کچھ رقم امانت کے طور پر رکھواتی رہی، جن کی کل مالیت ابھی پانچ لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، البتہ کچھ وقت قبل ہی میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے وارثین میں تین بیٹے ہیں اور اس کا شوہر بھی زندہ ہے،جبکہ ان بیٹوں میں سے ایک بیٹا ذہنی طور پر ابنارمل بھی ہے۔
براہ کرم! آپ اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ یہ رقم ان کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ ( یعنی اگر ان کے ذمے کوئی قرض ہو ،تو کل ترکہ (مالِ میّت)سے اس کی ادائیگی، اور اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو ترکہ (مالِ میّت)کی ایک تہائی سے اس) کی ادائیگی کے بعد، بقیہ ترکہ (مالِ میّت) کو 4 حصوں میں تقسیم کر کے ،ایک حصہ شوہر کو ،اور ایک، ایک حصہ ہر بیٹے کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
مرحومہ ( 4):
شوہر | بیٹا | بیٹا | بیٹا |
1 | 1 | 1 | 1 |
پانچ لاکھ میں سے ہر وارث کو ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ملیں گے۔
یعنی فیصد کے حساب سے ہر وارث کو میت کے ترکہ میں سے 25 فیصد ملے گا۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102039
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن