
چار بھائیوں میں سے تین بھائیوں نے باہر ملک جا کر مزدوری کر کے زمینیں خریدیں اور ان پر گھر تعمیر کیا، اور دکان بنائی، یہ سب انہوں نے اپنے مال سے کیا۔ پھر ایک بھائی جو کماتا نہیں تھا اس نے مطالبہ کیا کہ اس مکان میں میرا بھی حصہ ہے۔
تو کیا اس کا مطالبہ شرعاً درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً مذکورہ تین بھائیوں نے زمین خرید کر اس پر تعمیر اپنی ذاتی آمدن سے کی ہو، اس میں چوتھے بھائی کی کوئی رقم شامل نہ ہو، تو یہ پلاٹ صرف مذکورہ تین بھائیوں کا ہے، چوتھے بھائی کا بغیر کسی وجہ کے اس میں شراکت کا دعویٰ شرعاً درست نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
’’ لأن الملك ما من شأنه أن يتصرف فيه بوصف الاختصاص‘‘
(كتاب البيوع،ج:4،ص:502، ط: سعيد)
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
''کل یتصرف فی ملکه کیفما شاء ، لکن اذا تعلق حق الغیر به فیمنع المالک من تصرفه علی وجه الاستقلال اھ''
(الفصل الأول: في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك، (المادۃ:1192) ص:230، ط؛ قدیمی کتب خانه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102421
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن