بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1447ھ 06 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹوں اور تین بیٹیوں میں میراث کی تقسیم کا طریقہ کار


سوال

ہماری والدہ مرحومہ کا ایک مکان ہے جو انہوں نے خود اپنے پیسوں سے خریدا تھا۔

جس کی موجودہ قیمت ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے۔

ہمارے والد اور چار بہنوں میں سے ایک بہن کا والدہ سے پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ والدہ مرحومہ کے والدین پہلے ہی انتقال کر چکے تھے۔

اب ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، ہم اس مکان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہو گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحومہ کے  ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی : تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے ؛ اور اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو  تو اس کی ادائیگی کے بعد ؛ اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی  مال میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد،مرحومہ  کی تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو     9  حصوں میں تقسیم کر کے،   ، ہر بیٹے کو  2،2  حصے اور ہر  بیٹی کو1،1 حصے ملیں گے۔

میت (والدہ مرحومہ ) 9

بیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
222111

فیصد کے حساب سے  مرحوہ کے ہر ایک بیٹے کو 22.222 فیصد اور ہر ایک  بیٹی کو  11.111 فیصد دیے جا ئیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں