
میرے والد صاحب کا 2011 میں انتقال ہوگیاتھا، ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، والد صاحب کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا، اس کے بعد ہماری والدہ کا 2021 میں انتقال ہو گیا، ان کے ورثاء بھی یہی تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، جب کہ والدہ کے والدین کا بھی پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا، والد صاحب کی وراثت میں ایک زمین ہے، اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ ورثا میں یہ زمین کیسے تقسیم ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے مرحوم والدین کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ترکہ میں سے ان کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات (اگر اب تک ادا نہ کیے گئے ہوں، یا کسی نے بطور قرض ادا کیے ہوں، کو) نکالنے کے بعد ، اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعداور اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسےباقی ترکہ کے ایک تہائی حصہ میں نافذ کرنے کے بعد باقی کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو 9 حصوں میں تقسیم کرکے دو ، دو حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ، ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورت ِ تقسیم یہ ہے:
میت(مرحوم والدین): 9
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 |
یعنی مثلاً 100 فیصد میں سے 22.22 فیصد ہر ایک بیٹے کو اور 11.11 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا ۔
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100739
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن