بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کا حکم


سوال

میری بیوی مجھ کو بتائے بغیر گروپ کے ساتھ عمرہ پر چلی گئی اور ساتھ میں کوئی محرم بھی نہیں تھا۔ مجھےاس بات پر بہت غصہ آیا۔ مجھے بیوی نے ائیر پورٹ سے وائس میسج کیا کہ میں عمرہ پر جارہی ہوں۔ میں نے غصہ میں بیوی کو وائس کی کہ تم نے غیر شرعی کام کیا ہے، میں نے تمہیں طلاق دی ، میں نے تمہیں طلاق دی ، میں نے تمہیں طلاق دی ۔ اس کے بعد میں نے وائس ڈیلیٹ کردیا  اور بیوی نے نہیں سنا، پھر میں نے بیٹے کو فون کر کے بتایا کہ میں نے اس طرح وائس کی ہے۔ سالے کو بھی فون کر کے کہا کہ تمہاری بہن نے اس طرح غیر شرعی کام کیا اور میں نے اسے طلاق دی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو وائس میسج پر یہ الفاظ ”میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی“ کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی تھیں۔ سائل کی بیوی سائل پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے۔ اب رجوع اور دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔ مطلقہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

سائل کی بیوی کے میسج نہ سننے اور سائل کے  وائس میسج ڈیلیٹ کرنےسے حکم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کا سامنے ہونا یا سننا شرط نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ارشادباری تعالی  ہے:

"الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "(البقرة: (229.230

’’ وہ طلاق دو مرتبہ (کی )ہے ، پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق، خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ ...  پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے۔‘‘  ) ترجمہ از بیان القرآن)

حدیث مبارک میں ہے:

"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."

(صحيح البخاری،كتاب الطلاق،باب من أجاز طلاق الثلاث، 2/ 300، ط:رحمانية)

ترجمہ: ’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا اور دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے جیساکہ پہلے شوہر نے چکھی ہے۔‘‘

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."

(کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فیما تحل به الطلقة،1/ 473، ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وركنه لفظ مخصوص.

(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي."

(کتاب الطلاق، ج:3،ص:230، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100458

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں