
ہمارے عرف میں کسی کے انتقال کے بعد تعزیت کے مختلف طریقے مروج ہیں، من جملہ میت کو دفنانے کے بعد تعزیت گاہ یعنی گھر میں سوگوارو ں کے لیے مقصود نشست ہوتی ہے، سوگوار وہاں بیٹھتے ہیں تاکہ آنے والے لوگوں کو آسانی ہو اور وہ تعزیت گاہ میں آ کر تعزیت اور دعا کر کے چلے جائیں گے ،سوگواروں کے ساتھ مقامی علماء بھی بیٹھتے ہیں اور وہ ہر آنے والے کے کہنے پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں، اکثر دعائیہ کلمات عالم ہی کہتا ہے اور باقی لوگ میت کے حق میں دعا کرتے ہیں، بعض لوگ صرف ہاتھ چہرہ پر پھیرتے ہیں باقی لوگ بھی ہاتھ پھیر لیتے ہیں، اس کے بعد اکثر جاننے والے پاس جاکر ورثاء کو تسلی دیتے ہیں۔
سوالات یہ ہیں کہ کیا تعزیت کا مذکور طریقہ شریعت کی رو سے جائز ہے کہ نہیں؟ نیز تعزیت کے سلسلے میں عرف کااعتبار ہے کہ نہیں؟ بسا اوقات تعزیت کے لیے آنے والوں میں اگر کوئی قاری، عالم ہو تو وہ سلام کے بعد کسی سورت کی تلاوت کرتا ہے باقی حضرات سنتے ہیں، پھر دعا کے لیے عالم یا قاری ہاتھ اٹھاتا ہے اسی طرح باقی حضرات بھی ہاتھ اٹھاتے ہیں یہ طریقہ درست ہے؟ساتھ ساتھ تعزیت کا مسنون طریقہ بھی تحریر فرمائیں۔ ہمارے علاقہ میں تعزیت گاہ جا کر ہاتھ اٹھا کر میت کے حق میں دعا کرنے کو تعزیت سمجھتے ہیں اورسوگواروں کو تسلی بھی ملتی ہے، کیا اس طریقے سے اس کی شریعت میں گنجائش ہے خلاف سنت عمل تو نہیں ہے؟
تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر پہلے موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے، ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے کہے، تعزیت کے الفاظ اور مضمون متعین نہیں ہے،صبر اور تسلی کے لیے جو الفاظ زیادہ موزوں ہوں وہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعا یہ ہے: ’’إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَه مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَه بِأَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘ یا ’’أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَكَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَكَ وَ غَفَرَ لِمَیِّتِكَ‘‘اس سے زائد بھی ایسا مضمون بیان کیا جاسکتا ہے جس سے غم ہلکا ہوسکے اور آخرت کی فکر پیدا ہو،لیکن دورانِ تعزیت بار بار ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا جو طریقہ آج کل رائج ہے اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے، باقی تعزیت کے وقت میت کے ایصال ثواب کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز اور درست ہے، تاہم بار بار ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا محض ایک رسم ہے، اس کا ترک ضروری ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وعن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه وسلم: اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد أتاهم ما يشغلهم)،رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه".
"(اصنعوا لآل جعفر طعاما) أي: يتقوتون به، يسمى الآن بمكة رُفعة بضم الراء، ولا يفعلونه إلا بعد الدفن عند دخول الليل. (فقد أتاهم) أي: من موت جعفر. (ما يشغلهم) بفتح الياء والغين وقيل: بضم الأول وكسر الثالث) ، القاموس: شغله كمنعه شغلا ويضم، وأشغله لغة جيدة أو قليلة، أو رديئة، والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لا يشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع، واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ; لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: ويكره الأكل منه، قلت: وهذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب، وإلا فهو حرام بلا خلاف."
(كتاب الجنائز، باب البكاء على الميت، الفصل الثاني، ج: 3، ص: 1241، ط: المكتب الإسلامي)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
”(سوال ۳۱۰۱) فاتحہ خوانی اور تعزیت کتنے دن تک کن لفظوں سے مسنون ہے ؟ ماتم والوں کے گھر پر یا مسجد میں ۔
(الجواب ) تعزیت تین دن تک ہے اس کے بعد مکروہ ہے مگر جو شخص اس وقت نہ ہو وہ بعد میں کرسکتا ہے، تعزیت میں تسلی کے کلمات ہوں یعنی اس قسم کے کہ صبر کرو اللہ تم کو اس صبر کا اجردے گا وغیرہ ،اور تعزیت کے لیے مسجد میں بیٹھنا مکروہ ہے بلکہ گھر پر ہو ۔“
(فتاوی دارلعلوم دیوبند ،کتاب الجنائز ج:5، ص:283 ط:دارالاشاعت)
تبیین الحقائق میں ہے :
"(قوله: لا بأس بتعزية أهل الميت إلخ)، وأكثرهم على أن يعزى إلى ثلاثة أيام ثم يترك لئلا يتجدد الحزن وروى ابن ماجه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال «ما من مؤمن يعزي أخاه بمصيبة إلا كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة». اهـ. أبو البقاء (قوله: وأحسن عزاءك) أي صبرك. اهـ. (قوله:؛ لأنها تتخذ عند السرور إلخ) قال الكمال، وهي بدعة مستقبحة وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة (قوله: ولا بأس بأن يتخذ لأهل الميت إلخ) قال الكمال ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام يشبعهم يومهم وليلتهم. اهـ. (قوله: لقوله عليه الصلاة والسلام «اصنعوا لآل جعفر طعاما») الحديث حسنه الترمذي."
(كتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل تعزية أهل الميت، ج: 1، ص: 246، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100323
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن