بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تعزیت کے لیے دوسرے یا تیسرے دن لازمی طور پر مجلس کرنا


سوال

ہماری برادری کا رواج ہے کہ جب کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو میت کے لواحقین کی طرف سے دوسرے یا تیسرے دن "زیارت" کے نام سے مسجد میں ایک مجلس منعقد کی جاتی ہے، جس میں مسجد کے امام صاحب اصلاحی بیان کرتے ہیں، اس مجلس میں خواتین بھی باپردہ شرکت کرتی ہیں، ان کے لیے باہر گلی میں قنات  لگا کر بیٹھنے کا انتظام کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں یہ تقریب عملاً ضروری و لازمی سمجھی جاتی ہے، اس کے بغیر تعزیت کو آدھا سمجھا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں تعزیت کے احکامات میں ایسے کسی  عمل کا ثبوت ملتا ہے یانہیں؟

2۔ اگر نہیں ملتا تو اسے لازم سمجھنے کا کیا حکم ہے؟

3۔ خواتین کے لیے بیان کے انتظامات میں گلی پر قنات  لگانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

  واضح رہے کہ تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد   میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے،  ان کے  اور  میت کے  حق  میں  دعائیہ جملے کہے،   تعزیت کے  الفاظ اور  مضمون متعین نہیں ہے، صبر  اور  تسلی کے لیے جو  الفاظ زیادہ موزوں ہوں  وہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعا یہ ہے:

"إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَهٗ مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى" یا "أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَكَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَكَ وَ غَفَرَ لِمَیِّتِكَ."

اس سے  زائد بھی ایسا مضمون بیان کیا جاسکتا ہے جس سے غم ہلکا ہوسکے اور آخرت کی فکر پیدا ہو۔

 نیزکسی میّت کے ایصالِ ثواب کے  لیے سوئم، چالیسواں یا کوئی بھی وقت، دن یا کیفیت کا مخصوص کرناشریعت میں ثابت نہیں؛  یہ بدعت  ہے؛ کیوں کہ ثواب سمجھ کر اس کا اہتمام کیا جاتاہے۔

1۔لہذا صورت مسئولہ میں تعزیت کے احکامات میں اس طرح دوسرے یاتیسرے دن زیارت کے نام سےمجلس کرنا ثابت نہیں ہے۔

2۔اگر اس کو لازم سمجھ کر یا پھر ثواب نیت سے  کیا جائے تو یہ بدعت ہوگا۔

3۔ ایسی مجلس کے لیے گلی میں قنات لگانا اور اس میں عورتوں کی شرکت بھی جائز نہیں ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويستحب أن يقال لصاحب التعزية: غفر الله تعالى لميتك و تجاوز عنه وتغمده برحمته ورزقك الصبر على مصيبته وآجرك على موته، كذا في المضمرات ناقلا عن الحجة.

وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنّ لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى»، ويقال في تعزية المسلم بالكافر: "أعظم الله أجرك وأحسن عزاءك" وفي تعزية الكافر بالمسلم: "أحسن الله عزاءك وغفر لميتك" ولا يقال: "أعظم الله أجرك"، وفي تعزية الكافر بالكافر: "أخلف الله عليك ولا نقص عددك"، كذا في السراج الوهاج."

(الباب الحادى والعشرون فى الجنائز، مسائل التعزية، ج:1، ص:167، ط:مكتبه رشيديه)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"والأصل فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا للكتاب والسنة أما الكتاب فلقوله تعالى {وقل ربي ارحمهما كما ربياني صغيرا} [الإسراء: 24] ، وإخباره تعالى عن ملائكته بقوله {ويستغفرون للذين آمنوا} [غافر: 7] وساق عبارتهم بقوله تعالى {ربنا وسعت كل شيء رحمة وعلما فاغفر للذين تابوا واتبعوا سبيلك} [غافر: 7] إلى قوله {وقهم السيئات} [غافر: 9] ، وأما السنة فأحاديث كثيرة منها ما في الصحيحين «حين ضحى بالكبشين فجعل أحدهما عن أمته» ، وهو مشهور تجوز الزيادة به على الكتاب، ومنها ما رواه أبو داود «اقرءوا على موتاكم سورة يس» وحينئذ فتعين أن لا يكون قوله تعالى: {وأن ليس للإنسان إلا ما سعى} [النجم: 39] على ظاهره، وفيه تأويلات أقربها ما اختاره المحقق ابن الهمام أنها مقيدة بما يهبه العامل يعني ليس للإنسان من سعي غيره نصيب إلا إذا وهبه له فحينئذ يكون له، وأما قوله - عليه السلام -: «لا يصوم أحد عن أحد، ولا يصلي أحد عن أحد» فهو في حق الخروج عن العهدة لا في حق الثواب فإن من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع".

(کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، ج:3، ص:63، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"یکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة، وقوله: ویکره اتخاذ الطعام في الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلی القبرفي المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقرّآء للختم أو لقراء ة سورة الإنعام أوالإخلاص".

( کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة، مطلب في كراهة الضیافة من أهل المیت،ج:2، ص:240، ط:سعید) 

فقط والله اعلم 


فتویٰ نمبر : 144706100055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں