بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تعزیت کے لیے آنے والوں کا بار بار دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا اور میت کے گھر کھانا کھانا


سوال

ہمارے گاؤں میں جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہےتو اس کے رشتہ دار اور وہ بھائی جو اس سے الگ رہتے ہیں، وہ اس کے غم اور تعزیت میں کوئی ایک دن ، کوئی دو دن، کوئی تین دن تک شریک ہوتا ہے، اور تعزیت میں اس کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں، پھر باہر سے لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں اور یہ قریبی رشتہ دار وغیرہ بیٹھے رہتے ہیں، پھر جو بھی آتا ہے وہ کہتا ہے:ہاتھ اٹھاؤ دعا کے لیےــ، اس طرح دعا کرتے ہیں، پھر کھانے کے اوقات اکثر لوگ(یعنی جو قریبی رشتہ دار اور باہر کے لوگ جو کھانے کے وقت موجود ہوں)کا بندوبست فیصد میٹ کمیٹی سے کیا جاتا ہے، اور فیصد کھانا اگر مذکورہ آدمی میت کمیٹی میں نہ ہو تو وہ خود کرتاہے، پھر اگر کوئی تین دن کے اندر تعزیت کے لیے نہ آئے تو ہفتہ کے اندر آتا ہے، اور جو لوگ باہر ملک میں رہتے ہیں وہ جب وہاں سے واپس آجاتے ہیں تو تعزیت کے لیے میت کے گھر آتے ہیں، اسی طرح رشتہ دار اور گاؤں والے فوتگی کے بعد والی عیدین کے موقع پر اس کے گھر جاتے ہیں تعزیت کی بناء پر۔

سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا تعزیت کا طریقہ اور اس میں کھلائے جانے والے کھانے کی شرعی کیا حیثیت ہے؟ اگر یہ طریقہ صحیح نہیں ہے تو ان ساری چیزوں کا شرعی طریقہ کیا ہے، تاکہ اس کے مطابق عمل کریں۔

جواب

تعزیت کے لیے آنے والوں کا بار بار ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا جو طریقہ آج کل رائج ہے یہ درست نہیں، اس طرح تعزیت کو لازم نہیں سمجھنا چاہیے،  جہاں اسے ضروری سمجھا جاتاہو وہاں اس طریقہ کو ترک کرنا ضروری ہے، باقی میت کے گھرانے والوں کا عام لوگوں کے لیے دعوت و خیرات کا اہتمام کرنا ،یہ بالکل درست نہیں ہے،بلکہ جنازے یا تعزیت میں آنے والے افراد کو جنازے اور تعزیت سے فارغ ہوکر اپنے اپنے گھروں کو واپس  چلے جانا چاہیے؛کیوں کہ دعوت کا کھانا تو خوشی کے موقع پر مشروع ہے نہ کہ غم کے موقع پر، اسی لیے فقہاء نے تعزیت کے موقع پر کھانے کی دعوت کو مکروہ قرار دیا ہے،تاہم رشتہ دارلوگ دور دراز سے جنازہ  میں شرکت کے لیے یا تعزیت کے لیے آتے ہیں او ردوسری جگہ قیام کی متبادل   جگہ نہ ہوں اور  اہلِ میت یا ان کے قریبی اعزہ ان کے لیے کھانے کا نظم کردیں تو اس میں مضائقہ نہیں ہے اور ان کے لیے میت کے گھر کھانے میں حرج نہیں۔

باقی تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر پہلے موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے،  ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے کہے، تعزیت کے الفاظ اور مضمون متعین نہیں ہے،صبر اور تسلی کے لیے جو الفاظ زیادہ موزوں ہوں وہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعا یہ ہے: ’’إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَه مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَه بِأَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘ یا ’’أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَكَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَكَ وَ غَفَرَ لِمَیِّتِكَ‘‘ اس سے زائد بھی ایسا مضمون بیان کیا جاسکتا ہے جس سے غم ہلکا ہوسکے اور آخرت کی فکر پیدا ہو۔

نیز وفات سے لے کر تین دن کے اندر اندر تعزیت کرلینی چاہیے، بلاعذر تعزیت کو تین دن سے زیادہ مؤخر کرنا اور تین دن کے بعد تعزیت کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں ہے، کیوں کہ شریعت میں بیوہ کے علاوہ کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ منع ہے، اور تین دن سے زیادہ تعزیت کا سلسلہ جاری رکھنے میں غم کی تازگی ہے۔ البتہ اگر تعزیت کرنے والا سفر پر ہو، یا بیماری وغیرہ عذر کی وجہ سے جلدی تعزیت نہ کرسکے تو تین دن بعد بھی تعزیت کرسکتاہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه وسلم: صانعوا ‌لآل ‌جعفر طعاما فقد أتاهم ما يشغلهم)،رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه".

"(‌اصنعوا ‌لآل ‌جعفر طعاما) أي: يتقوتون به يسمى الآن بمكة، رفعه بضم الراء، ولا يفعلونه إلا بعد الدفن عند دخول الليل. (فقد أتاهم) أي: من موت جعفر. (ما يشغلهم) بفتح الياء والغين وقيل: بضم الأول وكسر الثالث) ، القاموس: شغله كمنعه شغلا ويضم، وأشغله لغة جيدة أو قليلة، أو رديئة، والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لا يشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع، واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ; لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: ويكره الأكل منه، قلت: وهذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب، وإلا فهو حرام بلا خلاف".

(كتاب الجنائز، باب البكاء على الميت، الفصل الثاني، ج: 3، ص: 1241، ط: المكتب الإسلامي)

  فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف،ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون.اهـ.

مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت

وقال أيضاً: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل: أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاماً للفقراء كان حسناً اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لايريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. وبحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه عليه الصلاة والسلام دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء وجيء بالطعام . أقول: وفيه نظر، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جرير. على أنه بحث في المنقول في مذهبنا ومذهب غيرنا كالشافعية والحنابلة استدلالاً بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالباً من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي توجد في الأفراح، وكدق الطبول، والغناء بالأصوات الحسان، واجتماع النساء والمردان، وأخذ الأجرة على الذكر وقراءة القرآن، وغير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان، وما كان كذلك فلا شك في حرمته وبطلان الوصية به، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم". 

(کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت ج: 2، ص: 240، ط: سعید)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"كل واحد من الشركاء في ‌شركة ‌الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه....".

(الكتاب العاشر الشركات، الباب الأول، الفصل الثاني، ج:3، ص: 28، رقم المادة: 1075، ط: دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101819

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں