بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تیمم کے فرائض اور اس کا طریقہ


سوال

 تیمم کے کتنے فرائض ہیں اور اس کا کیا طریقہ ہے؟

جواب

تیمم کےتین  فرائض ہیں:

1۔پاکی حاصل کرنے کی نیت کرنا

2۔ ایک مرتبہ پاک مٹی پر ہاتھ مار کر سارے چہرہ پر ہاتھ پھیرنا۔
3۔ پھر مٹی پر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں تک ہاتھ پھیرنا کہ کوئی جگہ باقی نہ رہے ۔

تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً نیت کر لیں،  پھر پاک مٹی پر دونوں ہاتھ مار کر جھاڑ لیں، پھر پورے  چہرے پر ایک مرتبہ اس طرح پھیریں کہ کوئی جگہ  باقی نہ رہے، پھر دوسری مرتبہ اسی طرح زمین پر  ہاتھ ماریں اور  دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت اس طرح  ہاتھ پھیریں کہ کوئی جگہ باقی نہ رہے اور  انگلیوں کے درمیان بھی  خلال  کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وركنه شيئان: الضربتان، والاستيعاب."

(کتاب الطهارۃ، باب التیمم ج:1، ص:230، ط: دارالفکر)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

وكيفية التيمم: أن يضرب يديه على الأرض يقبل بهما ويدبر ثم يرفعهما وينفض. كذا في التبيين بقدر ما يتناثر التراب. كذا في الهداية ويمسح بهما وجهه بحيث لا يبقى منه شيء ثم يضرب يديه على الأرض كذلك ويمسح بهما ذراعيه إلى المرفقين. كذا في التبيين قال مشايخنا: ويمسح بأربع أصابع يده اليسرى ظاهر يده اليمنى من رءوس الأصابع إلى المرفقين ثم يمسح بكفه اليسرى باطن يده اليمنى إلى الرسغ ويمر باطن إبهامه اليسرى على ظاهر إبهامه اليمنى باليد اليسرى كذلك وهو الأحوط، كذا في محيط السرخسي وهكذا في البدائع.

(کتاب الطهارۃ، الباب الرابع فی التیمم، ج:1، ص:30، ط: دارالفکر)

وفیہ أیضاً:

"منها النية وكيفيتها أن ينوي عبادة مقصودة لا تصح إلا بالطهارة ونية الطهارة أو استباحة الصلاة تقوم مقام إرادة الصلاة ولا يجب التمييز بين الحدث والجنابة."

(کتاب الطهارة، الباب الرابع، الفصل الأول، ج:1، ص:25/26، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144508100203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں