بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیکسی ڈرائیور کا مسافر کو کلب تک پہنچانے کی اجرت لینا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایسے شخص کی کمائی کے بارے میں جو انگلستان رہتا ہے اور مسلمان ہے،  وہاں پر گاڑی کے ذریعے سواری یا سواریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ چھوڑتا ہے، کئی  مرتبہ وہ غیر مسلموں کو ان کے مقامات یعنی گھر اور دوکان وغیرہ سے اٹھا کر کلب چھوڑتا ہے جہاں شراب نوشی اور فحاشی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ تو کیا اس شخص کی یہ کمائی (یعنی غیر مسلموں کو کلب یا شراب خانے چھوڑ کر حاصل ہونے والا مال) حلال ہے یا حرام ؟ نیز اگر سواری مسلمان ہو، اسے کلب چھوڑ کر حاصل ہونے والی کمائی  کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی غیر مسلم یا مسلم کسی  ٹیکسی ڈرائیور کو شراب خانے یا کلب وغیرہ تک  پہنچانے کا کہے، تو  ڈرائیور کو چاہیے کہ اس سے معذرت کرلے اور اسے وہاں تک نہ لے جائے، البتہ اگر پھر بھی ڈرائیور اس کو وہاں تک پہنچادے، تو اس کی وجہ سےا س کا اجرت لینا  جائز ہوگا، کیوں کہ  مسافر کا گاڑی سے اتر کر کلب میں جانا، یا شراب خانے میں جانا یہ اس کا اپنا فعل ہے، لہٰذا   ڈرائیور  کا اس کو وہاں تک پہنچانے کی وجہ سے اس کی  کمائی  حرام نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا استأجر الذمي من المسلم داراً ليسكنها فلا بأس بذلك. فإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم من ذلك شيء من الإثم؛ لأنه لم يؤاجرها لذلك. والإجارة جائزة لازمة له. وكذلك لو اتخذ فيها بيعة أو كنيسة أو بيت نار بعد أن يكون ذلك بالسواد فإن الإجارة جائزة، ولا يلحق المسلم من ذلك شيء. وكذلك لو باع فيها الخمر. وكذلك هذا في الأمصار. غير أني أحول بين أهل الذمة وبين أن يتخذوا في الأمصار أمصار المسلمين الكنائس والبيع، وأن يبيعوا فيها الخمر."

(كتاب الإجارات، ج:4، ص:17، ط:دار الفكر)

ہدایہ میں ہے:

"قال (ولا بأس ‌ببيع ‌العصير ‌ممن ‌يعلم ‌أنه ‌يتخذه خمرا) ؛ لأن المعصية لا تقام بعينه بل بعد تغييره، بخلاف بيع السلاح في أيام الفتنة لأن المعصية تقوم بعينه."

(كتاب الكراهية، ج:4، ص:378، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

سوال: ہندو میت جلوانے کے واسطے ایک مسلمان کا لکڑی وغیرہ دینا شرعاً کیسا ہے؟

جواب؛ کسی مسلم  سے اگر ہندو لکڑی خریدے اور مسلم کو معلوم ہے کہ یہ اس سے مردہ جلاوے گا، اس کے ہاتھ فروخت کرنا درست ہے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالٰی اعلم۔

(فتاوی محمودیہ، ج:19،  ص:588، ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100058

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں