بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

توحید اور ختمِ نبوت پر عقیدہ رکھنے کے بعد ان کے دلائل سے لاعلمی ایمان میں کمی کا سبب نہیں بنتی


سوال

میں نے آج ایک بیان  سنا ،اس میں کہتے ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے اور محمد کو خاتم النبیین ماننے کی اگر  دلیل معلوم نہیں ہے تو ایمان پورا نہیں ہے، ناقص ہے، کیا ان کی بات درست ہے ؟اگر کوئی ہم سے پوچھے غیر مسلم یا کوئی اور تو ہم کیا دلیل پیش کرے؟اس کی دلیل آسان الفاظ میں بتائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ ایمان اس بات کا نام ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ لے کر آئے ہیں، اور جو امور قطعی طور پر نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں، ان سب کی دل سے تصدیق کی جائے اور زبان سے ان کا اقرار کیا جائے۔ یہ ایمان کی حقیقت ہے، صورتِ مسئولہ میں توحید، رسالت اور ختمِ نبوت کی سچے دل سے تصدیق اور اقرار کرنا ایمان کے لیے لازمی اور بنیادی شرط ہے،البتہ  ایمان کے صحیح  اور کامل ہونے کے لیے توحید اور ختمِ نبوت کی دلیلوں کا جاننا ضروری نہیں، اگر کوئی شخص ان عقائد پر سچے دل سے ایمان رکھتا ہے، اگرچہ اسے ان کی دلیلیں معلوم نہ ہوں، تب بھی اس کے ایمان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔مجمل ایمان کے معتبر ہونے پر اہل علم کا اتفاق چلا آرہا ہے۔

تاہم توحیدِ باری تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی ختمِ نبوت پر بے شمار نقلی اور عقلی دلائل موجود ہیں، جن سب کو ایک جگہ جمع کرنا ممکن نہیں، البتہ  توحیدِ الٰہی کی سب سے واضح اور صریح دلیل قرآنِ مجید کی یہ آیت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

"﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ﴾."(سورۃ الانبیاء: 22)

ترجمہ: ’’اگر آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں کا نظام درہم برہم ہو جاتا، پس اللہ تعالیٰ پاک ہے عرش کا رب ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔‘‘

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کائنات کا پورا نظام ایک ہی منظم اور ہم آہنگ اصول کے تحت چل رہا ہے، دن اور رات کا باقاعدہ آنا جانا، سورج کا اپنے مقررہ مدار میں رہنا، زمین کا متوازن رفتار سے گھومنا، موسموں کا باقاعدہ نظام یہ سب اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ اس نظام کو چلانے والا ایک ہی معبود ہے، اگر دو یا اس سے زیادہ خدا ہوتے تو ان کے ارادے اور احکام مختلف ہوتے، جس کے نتیجے میں ٹکراؤ، انتشار اور فساد لازم آتا، حالانکہ ہم کائنات میں ایسا کوئی فساد نہیں پاتے۔

امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آسمان و زمین میں نہ متعدد معبود موجود ہیں اور نہ ہی ان میں کسی قسم کا فساد پایا جاتا ہے، اور یہی بات اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ معبود ایک ہی ہے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ کی ختمِ نبوت پر قرآنِ مجید کی صریح اور قطعی دلیل سورۃ الاحزاب کی یہ آیت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا﴾(سورۃ الاحزاب: 40)

ترجمہ: ’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘

اس آیت میں واضح طور پر نبی کریم ﷺ کو ’’خاتم النبیین‘‘ قرار دیا گیا ہے، جو اس بات کی قطعی نص ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

مزید یہ کہ قرآنِ مجید میں بار بار نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے، یا آپ ﷺ سے پہلے انبیائے کرام اور ان کی کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر آیا ہے، لیکن قرآن کی کسی ایک آیت میں بھی آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی یا کسی نئی کتاب پر ایمان لانے کا نہ ذکر ہے اور نہ حکم، یہ امر خود اس بات کی روشن دلیل ہے کہ نبوت کا سلسلہ نبی کریم ﷺ پر ختم ہو چکا ہے۔

لہٰذا توحیدِ باری تعالیٰ اور ختمِ نبوت کا عقیدہ نہ صرف قرآن و سنت سے قطعی طور پر ثابت ہے بلکہ عقلِ سلیم بھی اسی کی تائید کرتی ہے، اور ان دونوں عقائد کی سچے دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار ہی ایمان کی بنیاد اور اساس ہے۔

صحيح البخاري میں ہے :

"عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌بني ‌الإسلام ‌على ‌خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان".

(كتاب الإيمان،باب: دعاؤكم إيمانكم ،ج:1،ص:21 ،ط:عطاءات العلم)

سنن الترمذي میں ہے :

"عن العباس بن عبد المطلب أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ذاق طعم الإيمان، ‌من ‌رضي ‌بالله ‌ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا".

(‌‌أبواب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،ج:4،ص:571،ط:دار الرسالة العالمية)

تفسير الرازي میں ہے :

"وقال تعالى: ‌لو ‌كان ‌فيهما ‌آلهة إلا الله لفسدتا [الأنبياء: 22] فهذا حق مع أنه ليس فيهما آلهة، وليس فيهما فساد".

(سورة آل عمران (3) ، آية :145،ج:9،ص: 377،ط:دار إحياء التراث العربي)

التعریفات میں ہے :

"الإيمان في اللغة التصديق بالقلب وفي الاعتقاد بالقلب والإقرار باللسان ".

(ج:1،ص:60،ط:دارالکتاب العربی ،بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"الإيمان ) وهو تصديق محمد صلى الله عليه وسلم في جميع ما جاء به عن الله تعالى مما علم مجيئه ضرورة وهل هو فقط أو هو مع الإقرار قولان وأكثر الحنفية على الثاني والمحققون على الأول ".

(ج:4،ص:221،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101428

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں