بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طویل المیعاد قرض (قسطوں والے قرض) کی موجودگی میں زکوٰۃ کا حکم


سوال

مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میں نے اپنا ایک ذاتی گھر خریدنے کے لیے ادھار رقم لی تھی، جس سے میں نے گھر خریدا ہے، گھر کی قیمت 2 کروڑ 25 لاکھ روپے بنتی ہے۔ یہ ادھار رقم مجھے 12 سال کی اقساط میں ادا کرنی ہے۔ میں صاحبِ نصاب ہوں۔ اب گھر کے لیے جو ادھار رقم لی ہے، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ صحیح قول کے مطابق دینِ مؤجل مانعِ زکوٰۃ نہیں ہے، یعنی جس قرض یا واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے مدت متعین ہو اور عام طور پر مقررہ وقت سے پہلے صاحبِ حق کی طرف سے اس کا مطالبہ نہ کیا جاتا ہو، وہ زکوٰۃ کے وجوب کے لیے مانع نہیں بنتی۔ لہٰذا طویل المیعاد قرض (جسے کئی سالوں میں ادا کرنا ہو) کا حکم یہ ہے کہ قرض کی پوری رقم زکوٰۃ سے منہا نہیں کی جائے گی، بلکہ ایک سال میں جتنی اقساط واجب الادا ہوں، صرف اتنی رقم زکوٰۃ کے حساب سے منہا کی جائے گی۔ باقی مال اگر نصاب کے بقدر ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔

پس صورتِ مسئولہ میں سائل نے ذاتی گھر کی خریداری کے لیے جو قرض لیا ہے، اس میں ایک سال کے دوران جتنی اقساط بنتی ہوں، زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت صرف اسی قدر رقم منہا کی جائے گی۔ اس کے بعد اگر سائل کے پاس بقدرِ نصاب مال باقی بچتا ہو تو حسبِ شرائط اس مجموعی مال کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول؛ لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ولو كفالة أو مؤجلا، ولو صداق زوجته المؤجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضا.

وفي الرد: قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:260، ط:ايج ايم سعيد)

مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:

"قوله (فارغ) صفة نصاب (عن الدين) والمراد دين له مطالب من جهة العباد سواء كان الدين لهم أو لله تعالى وسواء كانت المطالبة بالفعل أو بعد زمان فينتظم الدين المؤجل ولو صداق زوجته المؤجل إلى الطلاق أو الموت وقيل: لا يمنع لأنه غير مطالب به عادة بخلاف المعجل وقيل: إن كان الزوج على عزم الأداء منع وإلا فلا لأنه يعد دينا."

(كتاب الزكاة، شرط وجوب الزكاة، ج:1، ص:193، ط:دار إحياء التراث العربي، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101390

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں