بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ہر طواف کے لئے وضو ضروری ہے


سوال

خانہ کعبہ کے طواف کے لئے وضو  شرط ہے یا نہیں؟

جواب

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے طواف کا حکم مطلقا فرمایا ہے،جس میں وضو ہونے یا نہ ہونے کی کوئی صراحت نہیں ،البتہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے طواف کو نماز کے مانند عمل قرار دیا ہے،جس کی بناء پر فقہائے کرام نے وضو کو طواف کے واجبات میں شمار کیا ہے،شرائط طواف میں شمار نہیں کیا۔لہذا بیت اللہ کا طواف باوضو کرنا چاہئے، قصداً بے وضوء طواف کرنے سے اجتناب  کرنا چاہیے، البتہ اگر کسی نے نفلی طواف یا طواف قدوم یا طواف وداع بے  وضوء کیا ،تو ناقص طواف ہونے کی وجہ سے  اعادہ مستحب ہوگا،اگر اعادہ نہیں کیا تو  ہر چکر کے لیے  آدھا صاع گندم یا اس کی قیمت کا صدقہ لازم ہوگا،البتہ اگر وضو کرکے  طواف کااعادہ کرلیا،تو صدقہ  لازم نہیں ہوگا۔

اور اگر عمرہ کا طواف بےوضو کرلیا،تو اس کا اعادہ واجب ہوگا،اعادہ نہ کرنے کی وجہ سے دم واجب ہوگا۔ اسی طرح طواف زیارت بے وضو کرلیا،تو اس کا اعادہ واجب ہوگا،اعادہ نہ کرنے کی صورت میں دم واجب ہوگا،البتہ اگرطواف زیارت جنابت کی حالت میں کرلیا،تو بدنہ(بڑا جانور)لازم ہوگا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

"وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ"

(الحج: الآیة:  29)

 نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی  ترمذی شریف میں:

"حدثنا قتيبة، قال: حدثنا جرير ، عن عطاء بن السائب ، عن طاووس ، عن ابن عباس ؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الطواف حول البيت» مثل الصلاة، إلا أنكم تتكلمون فيه، فمن تكلم فيه فلا يتكلمن إلا بخير.وقد روي هذا الحديث عن ابن طاووس وغيره عن طاووس عن ابن عباس موقوفا، ولا نعرفه مرفوعا إلا من حديث عطاء بن السائب.والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم؛ يستحبون أن لا يتكلم الرجل في الطواف إلا لحاجة، أو بذكر الله تعالى، أو من العلم."

(باب ما جاء في الكلام في الطواف، ج: 2، ص: 282، رقم الحدیث: 960، ط: دارالغرب الاسلامی)

ترجمہ: "بیت اللہ کا طواف نماز کے مانند ہے، فرق صرف یہ ہے کہ تم اس میں گفتگو کر سکتے ہو، لہٰذا جو شخص طواف کے دوران بات کرے، وہ صرف بھلی بات ہی کرے۔"

جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:

"فأما الطهارة عن الحدث، والجنابة، والحيض، والنفاس فليست بشرط لجواز الطواف، وليست بفرض عندنا بل واجبة حتى يجوز الطواف بدونها.وعند الشافعي فرض لا يصح الطواف بدونها.واحتج بما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «الطواف صلاة إلا أن الله تعالى أباح فيه الكلام» .وإذا كان صلاة فالصلاة لا جواز لها بدون الطهارة، ولنا قوله تعالى: {وليطوفوا بالبيت العتيق} [الحج: 29] أمر بالطواف مطلقا عن شرط الطهارة، ولا يجوز تقييد مطلق الكتاب بخبر الواحد فيحمل على التشبيه كما في قوله تعالى: {وأزواجه أمهاتهم} [الأحزاب: 6] أي: كأمهاتهم ومعناه الطواف كالصلاة إما في الثواب أو في أصل الفرضية في طواف الزيارة؛ لأن كلام التشبيه لا عموم له فيحمل على المشابهة في بعض الوجوه عملا بالكتاب، والسنة أو نقول: الطواف يشبه الصلاة، وليس بصلاة حقيقة فمن حيث إنه ليس بصلاة حقيقة لا تفترض له الطهارة، ومن حيث إنه يشبه الصلاة تجب له الطهارة عملا بالدليلين بالقدر الممكن، وإن كانت الطهارة من واجبات الطواف فإذا طاف من غير طهارة فما دام بمكة تجب عليه الإعادة؛ لأن الإعادة جبر له بجنسه، وجبر الشيء بجنسه أولى؛ لأن معنى الجبر، وهو التلافي فيه أتم ثم إن أعاد في أيام النحر فلا شيء عليه، وإن أخره عنها فعليه دم في قول أبي حنيفة، والمسألة تأتي إن شاء الله تعالى في موضعها، وإن لم يعد، ورجع إلى أهله فعليه الدم غير أنه إن كان محدثا فعليه شاة، وإن كان جنبا فعليه بدنة؛ لأن الحدث يوجب نقصانا يسيرا فتكفيه الشاة لجبره كما لو ترك شوطا فأما الجنابة فإنها توجب نقصانا متفاحشا؛ لأنها أكبر الحدثين فيجب لها أعظم الجابرين.وقد روي عن ابن عباس رضي الله عنه أنه قال البدنة: " تجب في الحج في موضعين أحدهما: إذا طاف جنبا، والثاني إذا جامع بعد الوقوف ".

وإذا لم تكن الطهارة من شرائط الجواز فإذا طاف، وهو محدث أو جنب، وقع موقعه حتى لو جامع بعده لا يلزمه شيء؛ لأن الوطء لم يصادف الإحرام لحصول التحلل بالطواف."

(کتاب الحج، فصل شرط وواجبات طواف الزیارۃ، ج: 2، ص: 129، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101239

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں